’’کل کے گہرے دوست آج کے جانی دشمن کیسے بنے ‘‘ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس تصویر میں یہ 2 سیاستدان کون ہیں ؟
سیاست بھی بڑی عجیب و غریب شے ہے ۔
کب دوستی دشمنی میں بدل جائے اور کب دشمنی دوستی میں، کچھ پتہ نہیں لگتا ۔2نومبر اسلام آباد لاک ڈائون کی کال پر عمران کے جیالے اسلام آباد امڈے چلے آئے ۔
بنی گالہ پہنچنے کی کوحتی المقدور کوششیں جاری رہیں
یہاں تک وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اپنی مقررہ وقت پر جائے وزارت سے اٹھے اور جیالوں کا قافلہ لے کر اسلام آباد کے راستے ہو لئے ۔
قافلے کی راہ میں پہلی بڑی اور آخری رکاوٹ بھی برہان انٹر چینج پر اٹک پل تھا جہاں ایک طرح سے وفاق اور کے پی کے حکومت ایک دوسرے کیخلاف مورچہ زن ہوئیں ۔
لمحہ بہ لمحہ تمام صورتحال کو عوام کے سامنے لانے والے میڈیا چینلز کے مطابق ایک طرف سے شیلنگ ہوئی تو دوسری طرف سے پتھروں کی بارش اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب سالوں پرانی دوستی کا اختتام ہوا۔ یہ دوستی تھی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کی ۔
اس دوستی کا علم شاید پاکستان کی بیشتر عوام کو نہ ہو تاہم لاہور سے تعلق رکھنے والی معروف سماجی شخصیت یوسف صلاح الدین نے اپنے فیس بک پیج پر ایک نایاب تصویر شیئرکی جس میں آج کے سخت سیاسی حریف ، بہترین دوستوں کی طرح دکھائی دے رہے ہیں۔
،یوسف صلاح الدین نے اپنی پوسٹ میں جو تصویر شیئر کی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی شادی کی ہے
اس موقع پر پرویز خٹک کی بائیں جانب موجودہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی موجود ہیں۔
آج بے شک دونوں شخصیات کے درمیان کے درمیان بے پناہ سیاسی مخالفت نظر آتی ہے
مگر شادی کی پر مسرت تقریب کی گروپ فوٹو واضح طور پر یہ بتا رہی ہے
کہ پرویز خٹک اور چوہدری نثار میں کبھی بہترین دوستی ہوا کرتی تھی۔
تو یہ سیاست واقعی بڑی عجیب و غریب شے ہے ۔
کب دوستی دشمنی میں بدل جائے اور کب دشمنی دوستی میں ،کچھ پتہ نہیں لگتا ۔ January 20, 2020
سیاست بھی بڑی عجیب و غریب شے ہے ۔ کب دوستی دشمنی میں بدل جائے اور کب دشمنی دوستی میں، کچھ پتہ نہیں لگتا ۔2نومبر اسلام آباد لاک ڈائون ...
اگر آپ میں یہ 9علامات ہیں تو آپ زندگی میں کبھی امیر نہیں
ایسی بہت سی باتیں یا عادتیں ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے
کہ اگر وہ کسی شخص میں پائی جائیں تو وہ زندگی میں کبھی امیر نہیں ہوسکتا ۔
ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔1. اگرآپ بچت پر تو بہت زور دیتے ہیں
مگر کمائی پر توجہ نہیں
تو آپ کبھی امیر نہیں ہونگے ۔ 2. اگرآپ نے ابھی تک سرمایہ کاری شروع نہیں
کی تو بھیآپ کبھی امیر نہیں
ہونگے۔3. اوسط درجے کے افراد پہلے سے مقرر شدہ تنخواہ پر کام کرنا پسند کرتے ہیں
جبکہ امیر ہونے کے خواہش مند نتائج کے حساب سے اپنی تنخواہ طے کرتے ہیں۔4. اگر آپ ایسی اشیاء خریدتے ہیں
،جن کی آپ میں استطاعت نہیں تو آپ کبھی امیر نہیں ہو سکتے ۔5. اگر آپ کو امیر ہونا ہے تو اپنے کام سے محبت کریں
دوسروں کے خواب پورا کرنے میں لگے رہے تو آپ کبھی امیر نہیں
ہونگے۔6. اگرآپ خطرات مول نہیں لیتے، غیر یقینی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں
تو آپ امیر نہیں
ہو سکتے۔7. اگر آپ کے پاس پیسے ہیں مگر ان کا کوئی مقصد نہیں
تو بھی آپ امیر نہیں ہو سکتے ۔8. اگر آپ پہلے خرچ کرتے ہیں
اور بچ جانے والی رقم ہی بچاتے ہیں تو بھی آپ امیر نہیں
،ہوسکتے ۔سب سے پہلے خود کو ادائیگی کریں
یعنی پہلے بچت کریں پھر سرمایہ کاری۔9. اگر آپ سمجھتے ہیں
کہ امیر ہونا صرف خوش قسمتی کی وجہ سے ہے
تو یہ سوچ بھی آپ کو غریب ہی رکھے گی January 01, 2020
ایسی بہت سی باتیں یا عادتیں ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر وہ کسی شخص میں پائی جائیں تو وہ زندگی میں کبھی امیر نہیں ہوسکتا ۔ ...
مرنے کے 8گھنٹے بعد جب اتفاقیہ طور پر بیٹے نے اپنے باپ کے تابوت کا ڈھکن اٹھایا تو کیا دیکھا ؟ جان کر یقین نہیں کریں گے
بوڑھے شخص نے اپنی تدفین سے کچھ دیر قبل ہی آنکھیں کھول کر اپنے رشتے داروں سے پوچھا کہ یہ سب کیاہورہاہے؟ 75 سالہ شخص کی سانس رک گئی تھی اور اس کےہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے تھے،
جس پر اس کے بیٹے ، ہوانگ منگ کوان ، نے سمجھا کہ وہ مرگیاہے۔
تدفین سے پہلے اس کا بیٹا اور درجنوں رشتے دار وہاںموجود تھے۔
دفنانے کے آخری گھنٹے میں اچانک بیٹے نے تابوت میں باپ کا چہرہ دیکھنے کیلئے اس کا ڈھکن اٹھایا تو پتہ لگا کہ اس کا باپ تو زندہ تھا ۔اس کے باپ نے منہ باہر نکالا اور پوچھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟
کیا تم میرے جنازے کی تیاری کر رہے ہو؟
تو سب حیران رہ گئے۔بوڑھے کے زندہ ہونے کےبعد اس کے بیٹے اور رشتے داروں نے بھاگ کر اسے باہر نکالا اور بیڈ پر لٹادیا لیکن کمزوری کے باوجود بوڑھا اب بھی صرف دلیہ ہی کھا رہا ہے۔
یہ واقعہ جنوب مغربی چین کے صوبے سیچوان کی جونلیان کاؤنٹی میں پیش آیا۔ December 27, 2019
بوڑھے شخص نے اپنی تدفین سے کچھ دیر قبل ہی آنکھیں کھول کر اپنے رشتے داروں سے پوچھا کہ یہ سب کیاہورہاہے؟ 75 سالہ شخص کی سانس رک گئی تھی ا...
پاکستان کا ایسا گاؤں جہاں سگریٹ نوشی نہیں کی جاتی، گاؤں کے تمام فیصلے امام مسجد کرتا ہے
،پاکستان کا ایک ایسا گاؤں جہاں سات سال سے سگریٹ نوشی پر پابندی ہے
،تفصیلات کے مطابق ضلع فیصل آباد میں واقع ماموں کانجن کا ایک نواحی گاؤں 493 گ ب میں گزشتہ سات سال سے چرس
افیون، ہیروئن تو دور کی بات ہے
،کسی دکان پر سگریٹ تک فروخت نہیں ہوتے
تمام گاؤں والے امام مسجد کی بات مانتے ہیں
،اور انہی کے کہنے پر یہاں سگریٹ نوشی پر پابندی ہے
،گاؤں کے تمام بوڑھے لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں حقہ پینے کی اجازت دی گئی ہے
،امام مسجد مولانا محمد امین کے کہنے پر کسی کو شادی بیاہ یا دیگر خوشی کے مواقع پر ڈھول
گانے بجانے اور آتش بازی کی بھی اجازت نہیں ہے، گاؤں والے جب اپنے بچوں کی شادی کسی دوسرے شہر کرتے ہیں
تو پہلے ان کو مذکورہ رسوم نہ کرنے کا بتا دیتے ہیں، گاؤں میں ٹی ایم اے کے خاکروب نہیں ہیں
اور گاؤں کے نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہلال ویلفیئر سوسائٹی کے نام سے تنظیم بنا رکھی ہے
،جو تمام سماجی و فلاحی کام بہت اچھے طریقے سے انجام دے رہی ہے
،لڑائی جھگڑے کے تمام معاملات گاؤں کی مسجد میں بیٹھ کر حل کیے جاتے ہیں
،یہ گاؤں صفائی کے حوالے سے فیصل آباد کا مثالی گاؤں اور صفائی پر انعام بھی حاصل کر چکا ہے
دس ہزارسے زائد کی آبادی کے گاؤں میں صرف ایک مرکزی مسجد ہے
،جہاں پر تمام لوگ نماز جمعہ اور عیدین کی نمازیں پڑھتے ہیں
،باقی نمازیں گاؤں کی دوسری مساجد میں جو گاؤں والوں کے نزدیک ترین ہوتی ہیں وہاں پڑھتے ہیں
،لیکن ایک اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں اذان صرف مرکزی مسجد میں دی جاتی ہے
،اور یہ اذان تمام مساجد کے لاؤڈ سپیکر سے سنائی دیتی ہے
،اس گاؤں کے لوگ امام مسجد کی باتوں پر عمل کرتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ یہاں پر سگریٹ نوشی پر پابندی ہے۔ December 26, 2019
،پاکستان کا ایک ایسا گاؤں جہاں سات سال سے سگریٹ نوشی پر پابندی ہے ،تفصیلات کے مطابق ضلع فیصل آباد میں واقع ماموں کانجن کا ایک نواحی گا...
پاکستان کے ایک شہر میں مُردہ عورت نے قبر میں جس بچے کو جنم دیا اب وہ ایسا کام کرتا ہے کہ اسے دیکھ کر اللہ یاد آجاتا ہے۔۔ رونگٹے کھڑے کر دینے والی خبر
ان دنوں میں لاہور میں نیا نیاآیا تھا اور ایک نجی ہوسٹل میں رہتا تھا۔ہوسٹل میانی صاحب سے ایک کلومیٹر فاصلہ پر تھا ۔
میری عادت تھی کہ جمعرات کو قبرستان جاتا اور اہل قبر کے لئے دعا کرتا تھا ۔ایک دن میں دعا کرکے میں واپس پلٹ رہا تھا کہ اچانک ایک نوجوان میرے سامنے آگیا ۔
وہ معمولی سی جسامت کا مالک تھا،ہڈیاں اندر کو دھنسی ہوئیں ،کھالبھی جسم سے چمٹی ہوئی تھی۔لگتا تھا برسوں سے بھوکا ہے یا بیمار ہے ۔
لیکن اس کے ہاتھ میں کدال دیکھ کر سمجھ آگئی کہ یہ گورکن ہے۔ ’’ آپ جس قبر پر دعا کررہے تھے ادھر کوئی نہیں ہے ‘‘ اس نے مہین سی آواز میں ایسا انکشاف کیا کہ میں غور سے اسکو دیکھنے پر مجبور ہوگیا ۔
’’تمہیں کیسے پتہ؟‘‘ میں نے الجھی نظروں سے سوال کیا۔ اس نے کاندھے اچکائے اور چلا گیا ۔اس دوران چند لوگ ادھر نکل آئے۔انہوں نے اسے آواز دی۔’’
اوئے رمضانی بات سنتاجا‘‘ وہ اسکے پاس گئے تو میں بھی ان کے قریب چلا گیا ۔ ’’
کوئی جگہ بتا ،داداجی کی قبر کھودنی ہے‘‘ ان میں سے ایک نے سو سو کے چند نوٹ نکال کر اسے دئے۔اس نے جیب میں ڈالے اور انہیں اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔نہ جانے میں بھی ان کے پیچھے پیچھے کیوں چل دیا ۔
ایک ڈھلوان نما نشیب کے پاس چند قبروں کے پاس کھڑے ہوکر وہ قبروں کو سونگھنے کے انداز میں دیکھتا رہا ۔پھر اشارہ کیا ’’ یہ قبر خالی ہے ‘‘ ’’اچھا تو پھر قبر بھی بنادے،جنازہ عشاء کے بعد لانا ہے
‘‘ ایک موٹے سے بندے نے کہا۔میں بڑا حیران ہوا کہ کہ اسے کیسے معلوم کون سی قبر خالی ہے اور کس میں مردہ ہوگا ۔
ذہن میں آیا کہ لازمی ان لوگوں نے جعلی قبریں بنا رکھی ہیں اور پیسے لیکر قبریں دیتے ہیں ۔
یہ بھی تو ایک دھندہ ہی تھا ۔
لیکن میرا خیال اس وقت ریزہ ریزہ ہوگیا جب میں نے بڑے اور بوڑھے گورکن سے یہ سوال کیا’’ تم لوگ قبریں بھی بیچتے ہو‘‘ اس نے چونک میری جانب دیکھا اور پوچھا ’’ کیا ہوا صاب‘‘میں نے رمضانی کے بارے اسے بتایاتو اسکے چہرے پر کرب ناک سی تاریکی چھا گئی۔
پہلے اس نے کچھ بتانے میں تامّل برتا۔چند لمحوں بعد بولا’’ وہ قبر کا بیٹا ہے،مٹی تو بتائے گی ناں اسے کہ اسکی ماں کی گود میں کون سویا ہوا ہے ‘‘ یہ سن کر مجھے اسکی دماغی صحت پر شک ہوا ’’ میں سمجھا نہیں ‘‘ ’’ تو سمجھے گا کیسے ،یہ بات تو کوئی بھی نہیں
سمجھ پایا ،یہ جانتا ہوں تو صرف میں۔پینتیس سال پہلے اسی قبرستان کا واقعہ ہے ۔
اس وقت میری عمر چالیس سال تھی۔رمضان کا مہینہ تھا ۔یہ تاریک رات تھی،بارش ہورہی تھی اور بجلیاں کڑک رہی تھیں ۔
میں اس ڈھیری کی جانب سے ‘‘ اس نے بائیں طرف انگلی کا اشارہ کیا ’’ اپنی کٹیا میں جارہا تھا کہ مجھے ایک بچے کے رونے کی آواز آئی ۔
میں رک گیا اور آواز کا پیچھا کرتا ہوا اس جگہ پہنچا تو دیکھا یہ آواز ایک تازہ قبر سے آرہی تھی جس کو بارش نےاب کافی ننگا کردیا تھا ۔قبر تقریباً بیٹھ رہی تھی ،بچے کی آواز اسی قبر سے آرہی تھی۔میں نےہمت کی اور قبر کھود کر جب نیچے کی طرف دیکھا تو اس لمحہ بجلی زور سے کڑکی ۔
اسکی روشنی قبر میں سفید کفن میں ایک عورت آڑھی ترچھی ہوئی پڑی تھی ،کفن بارش کے پانی اور مٹی سے میلا ہورہا تھا ،اس کے اندر ہلچل ہورہی تھی اور بچے کی آواز آرہی تھی۔
یہ منظر دیکھ کر میں بہت گھبرایا،سمجھا کہ یہ کوئی جن بھوت کا کام ہے ۔
اللہ نے مجھے ہمت دی اور میں نے نیچے اتر کر کفن ہٹایا تو نیچے ایک بچہ پڑا تھا جو لگتا تھا ایک دن پہلے پیدا ہواتھا ۔
یہ بچہ اسی عورت کا تھا ،اور لگتا تھا وہ ایک دو دن پہلے مر چکی تھی ۔میں نے بچہ اٹھایااور اپنیکٹیا میں اسے لے آیا ۔اپنی بیوی کو دیا اور اسے سارا واقعہ بتایا ۔اللہ والی کو اس بچے پر بڑا پیار آیا اور اسے ہم نے پالا ۔
اسکا نام محمد رمضان رکھا ۔سارے لوگ اسے رمضانی کہتے ہیں ۔
ایک اور بات ۔۔میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح پتہ کروں کہ اس قبر والی عورت کے وارث کون تھے لیکن جب ناکام رہا تو رمضانی کو ہم نے ماں باپ بن کر پالا ۔
یہ ابھی بچہ ہی تھا مگر اسے قبر وں سے بڑا پیار ہوگیا،یہ قبروں سے لپٹ کر سوتا ہے۔اللہ نے اسکے اندر کوئی ایسی قوت رکھی ہے
کہ یہ قبر سونگھ کر بتا دیتا ہے کہ اس میں جو مردہ ہے وہ عورت کا ہے
یا مرد کا،بچے کا ہے یا بڑے کا۔کتنا پرانا ہے‘‘ آج جب یہ واقعہ بیان کررہا ہوں تو میری برسوں پرانی حیرتوں کا سفر تمام ہوگیا ہے ،کیونکہ آج ہی میں نے افریقہ کی ایک خبر پڑھی ہے جس میں اس واقعہ سے ملتا جلتا واقعہ بیان کیا گیا ہے ۔
نہ جانے افریقہ میں قبر میں جنم لینے والے بچے میں رمضانی جیسی قوت موجود ہے یا نہیں December 25, 2019
ان دنوں میں لاہور میں نیا نیاآیا تھا اور ایک نجی ہوسٹل میں رہتا تھا۔ہوسٹل میانی صاحب سے ایک کلومیٹر فاصلہ پر تھا ۔ میری عادت تھی کہ ج...
(26) دسمبر 2019 کوسورج گرہن کادورانیہ کتنا ہو گا ؟ تفصیلات جاری
ماہر فلکیات کے مطابق 26دسمبر 2019 کی صبح 7.34منٹ پر سورج گرہین ہو گا۔
زرائع کے مطابق 26 دسمبر 2019 کو کی صبع 7.34 شروع ہو گاجس میں 8.40منٹ پر سب سے زیادہ سورج گرہین ہو گا اور 10.10منٹ پر سورج گرہین ختم ہوجائے گا۔
معلوم ہوا کہ یہ سورج گرہین 20سال بعد اتنا زیادہ ہوگا کہ سورج چاند کے پیچھے 80 فیصد تک چھپ جائے گا اور دن رات کا منظر پیش کر رہا December 24, 2019
ماہر فلکیات کے مطابق 26دسمبر 2019 کی صبح 7.34منٹ پر سورج گرہین ہو گا۔ زرائع کے مطابق 26 دسمبر 2019 کو کی صبع 7.34 شروع ہو گاجس میں...
وہ 5 خطرناک سچ جو آپ کے پاؤں بولتے ہیں
آپ کے پاؤں ڈاکٹر کے لیے ایک حیرت انگیز تشخیصی آلے کے طور پر کام کرتے ہیں کیونکہ وہ ان سے کئی بیماریوں کے خطرات کے بھانپ سکتا ہے-
درحقیقت انسان کے پاؤں کی حالت صحت کے مختلف مسائل کی جانب اشارہ کر رہی ہوتی ہے- پاؤں یہ حالت دراصل ان بیماریوں کی علامت ہوتی ہے-
ہم یہاں چند بیماریوں کی ایسی علامات کا ذکر کر رہے ہیں
جو آپ کے پاؤں سے ظاہر ہوتی ہیں-Dry, Flaking Skinاگر آپ کے پاؤں کی ایڑیاں خشک اور کھردری ہیں تو یہ تھارائیڈ کی خرابی کی جانب سے اشارہ کر کر کر کر کر رہی ہیں-
ہمارے تھارائیڈ گلینڈ ایسے ہارمون پیدا کرتے ہیں جو ہمارے بلڈ پریشر٬ ٹشو کی پیداوار اور اعصابی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں-
لیکن تھارائیڈ میں خرابی کا مطلب ہے ان تمام چیزوں میں خرابی پیدا ہونا- اگر آپ کے پاؤں کی جلد خشک ہے٬ اور اس کے ساتھ آپ کا وزن بڑھ رہا ہے٬ نظر کمزور ہورہی ہے اور ہاتھ سُن ہوجاتے ہیں تو آپ کو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے-Balding Toes مرد و خواتین کے پاؤں کی انگلیوں پر بالوں کا ہونا ایک عام سی بات ہے-
لیکن اگر آپ دیکھتے ہیں کہ یہ بال جڑ رہے ہیں یا پھر آپ کے پاؤں کی اںگلیاں مکمل گنجی ہوچکی ہیں
تو یہ اس بات کی علامت ہے آپ کے جسم میں خون کی گردش صحیح نہیں ہورہی- دورانِ خون میں مسئلے کی ایک وجہ شریانوں میں خرابی بھی ہوسکتی ہے
جو آپ کے پاؤں تک پہنچنے والے خون کو متاثر کر رہی ہے-
یہ خرابی ہارٹ اٹیک یا فالج کا سبب بھی بن سکتی ہے- ایسی علامت محسوس ہوتی ہے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے اور اس کے علاوہ تمباکو نوشی کو ترک کردی٬ غذا متوازن کر دیں اور ورزش کو معمول بنا لیں-Foot Numbness اگر آپ کے پاؤں سُن ہوجاتے ہیں
تو یہ بھی اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ پاؤں کی طرف خون کی گردش میں کوئی خرابی پیدا ہوچکی ہے-
ممکن ہے اگر آپ ایک ہی پوزیشن میں کافی وقت تک بیٹھے رہتے ہیں یا غلط انداز میں سو جاتے ہیں
تو اس وجہ سے بھی آپ کا پاؤں سُن ہوجائے- لیکن اگر یہ مسئلہ اکثر رہتا ہے تو پھر آپ کو اسے نظر انداز نہیں
کرنا چاہیے- پاؤں کا سُن ہونا ذیابیطیس ٹائپ 2 کا مرض لاحق ہونے کی علامت بھی ہوسکتی ہے- ذیابیطیس کے مریضوں میں پاؤں کی جانب ہونے والی خون کی گردش میں پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں
اور اسی وجہ سے ان کے زخم بھی آسانی سے ٹھیک نہیں ہوتے-
روزانہ کی ورزش اور صحت بخش غذا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں-Black Spots or Lines Under Your Toenails عام طور پر اگر آپ کے پاؤں کی انگلیوں یا اس کے ناخن والے حصے پر کوئی بھاری چیز گر جائے تو اس کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے-
لیکن اگر آپ کے پاؤں کے انگوٹھے کے ناخن پر کالی یا بھوری لکیریں موجود ہیں
جبکہ آپ کو اچھی طرح یاد ہے کہ آپ کا پاؤں زخمی بھی نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اس کے ناخنوں پر کوئی چوٹ پہنچی تھی تو پھر آپ کو ڈاکٹر سے فوراً رابطہ کرنا چاہیے-
یہ لکیریں melanoma نامی بیماری کی علامت بھی ہوسکتی ہیں-
یہ ایک جلد کا کینسر ہوتا ہے اور اسے ہرگز نظر انداز مت کیجیے-Morning Foot Painاگر مریض یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ صبح سویرے ان کے پاؤں میں شدید درد ہوتا ہے- جب وہ بستر سے نیچے چند قدم رکھتے ہیں تو ان کے پاؤں میں درد شروع ہوجاتا ہے- یہ rheumatoid arthritis (RA) کی علامت بھی ہوسکتی ہے جسے عام زبان میں جوڑوں کا درد کہا جاتا ہے- جوڑوں کا درد جوڑوں میں سوزش پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے- اس سلسلے میں اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کے علاوہ روزانہ ورزش کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ آپ کے جسم کے تمام جوڑ مضبوط اور صحت مند ہوں- December 23, 2019
آپ کے پاؤں ڈاکٹر کے لیے ایک حیرت انگیز تشخیصی آلے کے طور پر کام کرتے ہیں کیونکہ وہ ان سے کئی بیماریوں کے خطرات کے بھانپ سکتا ہے- درحق...
ورنہ میری بیوی مجھے زندہ نہیں چھوڑے گی
دنیا میں ہر شریف آدمی بیوی سے ڈرتا ہے‘ ان میں سے کچھ لوگ اس خوف کا اعتراف کر لیتے ہیں
جبکہ کچھ لوگ خود کو دوسروں کے سامنے بہادر ثابت کرتے ہیں۔
اپنی جرات اور بے باکی کے دعوے کرتے ہیں لیکن جونہی گھر میں داخل ہوتے ہیں
تو ان کی حالت بھی دوسروں جیسی ہی ہوتی ہے‘ یہ بھی اسی طرح عاجزی‘ انکساری اور برد باری کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ امریکا میں ایک بار بہادر ترین شخص کامقابلہ ہوا۔
مقابلہ جیتنے والے کیلئے گھوڑا‘انعام میں رکھا گیا تھا۔
یہ مقابلہ میکسیکو کے ایک کسان نے جیت لیا۔ اس کسان کے سامنے بھوکا شیر لایا گیا تھا‘ وہ شیر سے نہیں ڈرا‘ اسے لٹا کر اس کے اوپر سے ہاتھی گزارا گیا۔
ہاتھی کا پاﺅں اس کے جسم سے آدھ انچ کے فاصلے سے گزرالیکن وہ نہیں ڈرا‘ اسے رسے سے باندھ کر پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرایا گیا لیکن وہ نہیں ڈرا‘ اس کے پاﺅں باندھ کر اسے دریا میں پھینک دیا گیا لیکن وہ نہیں
ڈرا اور آخر میں رات کے اندھیرے میں اسے ریل کی پٹڑی پر باندھ دیا گیا۔ پوری ٹرین اس کے اوپر سے گزر گئی۔
وہ موت کو ایک انچ کے فاصلے سے گزرتا ہوا دیکھتا رہا لیکن وہ نہیں ڈرا چنانچہ وہ یہ مقابلہ جیت گیا۔ اسے دنیا کے بہادر ترین انسان کا خطاب دے دیا گیا۔
مقابلہ جیتے کے بعد اس کے سامنے دو گھوڑے لائے گئے‘ ایک کا رنگ سیاہ تھا اور دوسرا سفید تھا۔ اسے دونوں میں سے ایک گھوڑا پسند کرنے کی چوائس دی گئی‘ اس نے سفید گھوڑا پسند کیا۔
گھوڑے پر بیٹھا اور چلا گیا۔ اگلے دن وہ واپس آیا‘ سفید گھوڑا منتظمین کو واپس کیا اوران سے درخواست کی‘ آپ مجھے سیاہ گھوڑا دے دیں۔
منتظمین نے حیرت سے پوچھا ”کیوں؟
“ دنیا کے بہادر ترین شخص نے جواب دیا ”میں سفید گھوڑا لے کر گھر پہنچا تو میری بیوی نے کہا ”کیا تم سیاہ گھوڑا نہیں
لے سکتے تھے‘ تم میں اتنی بھی عقل نہیں‘ جاﺅ یہ واپس کرو اور سیاہ گھوڑا لے کر آﺅ“ دنیا کے بہادر ترین شخص کا کہنا تھا ”آپ مہربانی کر کے مجھے گھوڑا تبدیل کر دیں ورنہ میری بیوی مجھے زندہ نہیں چھوڑے گی“۔
مرد بیویوں سے اتنے ڈرتے کیوں ہیں؟
شائد ان لئے کہ بیویاں اسٹیبشلمنٹ ہوتی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر سکون کے ساتھ حکومت کرنا آسان نہیں ہوتا
۔ December 22, 2019
دنیا میں ہر شریف آدمی بیوی سے ڈرتا ہے‘ ان میں سے کچھ لوگ اس خوف کا اعتراف کر لیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ خود کو دوسروں کے سامنے بہادر ثابت ...
انڈونیشیا،سانپ نے انسان کونگل لیا،ساتھیوں کوکیسے پتاچلااورلاش کیسے ملی؟ ،لرزہ خیزواقعہ
عام طورپرسب جانتے ہیں کہ دنیامیں ایسے جانوربھی ہیں
جوکہ انسان کودیکھتے ہیں اس پرحملہ کردیتے ہیں اورلمحوں میںہی انسان کوچبائے بغیرنگل لیتے ہیں
لیکن انڈونیشیاکے ایک گائوں میں اسی طرح کاایک خوفناک واقعہ پیش آیاہے
کہ ایک دیوہیکل سانپ (Gaint Python)نے ایک شہری کونگل لیا۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اکبرسالابیرواپنے دوستوں کے ہمراہ پام آئل کے کھیتوں میں کام کرنے کےلئے گیااور پام آئل کے پتے کاٹتے ہوئے اس کوایک دیوہیل سانپ نے خاموشی سے نگل لیاجس پراس کے دیگرساتھیوں نے اکبرکی تلاش شروع کردی کہ ساتھ ہی ان کوکسی انسان کے چیخنے چلانے کی آوازیں بھی آئیں توانہوں نے دیکھاکہ ساتھ ہی باغ میں ایک دیوہیکل سانپ گھوم رہاہے اوراس کاپیٹ بڑھاہواہے جس سے ان کوشک پڑاکہ کہیں اس سانپ نے ہی توان کے ساتھی کونگل تونہیں لیا؟
یہ شک ہوتے ہی وہاں پرموجود افراد نے مقامی دیہاتیوں سے ایک شکاری چاقو لیا جوکہ تین فٹ کاتھااوراس دیوہیکل سانپ کوپکڑاکراس کے پیٹ کوچیراتووہاں پرموجود سب افرادحیران رہ گئے تھے کہ اس سانپ کے پیٹ سے ان کے ساتھی کی لاش ملی جوکہ مرچکاتھالیکن اس کوسانپ نے کچلنے اورچبانے کے بجائے نگل لیاتھا۔
سانپ نے صرف اکبرکے گلے کوپکڑاتھااوربعدمیں نگل لیاجس کی وجہ سے اکبر کے جسم پرصرف اس کے گلے پرہی سانپ کے دانتوں کے نشانات پائے گئے جبکہ باقی جسم پرصرف اس سانپ کے پیٹ کے اندرموجود خون کے دھبے ہی موجود تھے ۔
اس لرزہ خیزواقعہ کے بعد علاقے میں خوف پھیل گیاکہ کس طر ح خاموشی سے ایک دیوہیل سانپ نے چلتے پھرتے شخص کواتنی خاموشی اورآسانی سے اپناشکاربنالیا۔واضح رہے
کہ انڈونیشیاکے جنگلات ا ور دیگرعلاقوں میں ایسے سانپوں کی بہتات ہے جو جسامت میں انسانوں سے بھی کئی گنابڑے ہیں
اوران کی جسامت مگرمچھوں کے برابرتک ہوتی ہے
اوران کی شکلیں بھی عام سانپوں کے بجائے الگ قسم کی ہوتی ہیں
جبکہ بعض افراد ان سانپوں کاشکارکرکے ان کے جسم سے حاصل ہونے والے قیمتی چمڑے کوفروخت کرکے بھاری معاوضے بھی کماتے ہیں ۔ December 21, 2019
عام طورپرسب جانتے ہیں کہ دنیامیں ایسے جانوربھی ہیں جوکہ انسان کودیکھتے ہیں اس پرحملہ کردیتے ہیں اورلمحوں میںہی انسان کوچبائے بغیرن...
About
Hello, my name is Brixton. I am a blogger living in New York. This is my blog, where I post my photos, fashion trends and tips about the fashion world. Never miss out on new stuff.
Popular Posts
Subscribe Us
Labels
Popular Posts
Total Pageviews
Search
Archives
Footer Menu Widget
About me

Aenean sollicitudin, lorem quis bibendum auctor, nisi elit consequat ipsum, nec sagittis sem nibh id elit. Duis sed odio sit amet nibh vulputate.


























