Showing posts with label Kahani. Show all posts



قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا وہ کلام برحق ہے جو قیامت تک کیلئے انسانوں کی رہنمائی کیلئے نبی کریمؐ کے ذریعے دنیا تک پہنچایا گیا۔

یہ نسخہ کیمیا دنیا جہان کے علوم اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔



قرآن کریم کے بے شمار معجزات کتابوں میں تحریر ہیں مگر آج ہم آپ کو یہاں ایک ایسا معجزہ دکھانے جا رہے ہیں

جسے دیکھ کر آپ کی زبان پر بے اختیار سبحان اللہ کا ورد شروع ہو جائے گا اور آنکھیں نم ہو جائیں گی۔



ترکستان کے شہر اندیجان میں پہاڑ سے چشمہ نے بہنا بند کردیا تو ایک مسلمان نے جاکر قرآن کی تلاوت کی اور دعا مانگی
تو پہاڑ نے چشمے کا منہ کھول دیا دعا کی قبولیت اور اللہ کی قدرت کا چشم دید نظارہ دیکھنے کو ملا ۔

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا وہ کلام برحق ہے جو قیامت تک کیلئے انسانوں کی رہنمائی کیلئے نبی کریمؐ کے ذریعے دنیا تک پہنچایا گیا۔ یہ نسخہ ک...


دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک میں باپ سے بیٹی کی شادی کو انتہائی شرمناک سمجھا جاتا ہے
 اور اس کا شاید کوئی مہذب معاشرہ تصور بھی نہیں کر سکتا مگر اسلامی ملک بنگلہ دیش میں ایک ایسا علاقہ ہے
جہاں رہنے والاقبیلے میں لڑکیوں کی شادی باپ سے زبردستی کروانے کا رواج ہے ۔

بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کے پہاڑی قبیلے ” منڈی “ میں اگر کوئی بیوہ شادی کی خواہش کرے تو اسے اپنے ہی قبیلے یا خاندان کے کسی فرد سے شادی کرنا ہوتی ہے ،بیوہ کو اپنی شادی کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی کا بیاہ بھی دوسرے شوہر سے کروانا ہوتا ہے۔

منڈی قبیلے کا خیال ہے کہ ان کی اس رسم کی وجہ سے قبیلے کی نسل میں اضافہ ہوتا ہے کیوں کہ لڑکی سے ان کی نسل پروان چڑھتی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کی دولت بھی محفوظ ہو جاتی ہے، کیوں کہ اگر بیوہ کا انتقال ہوجاتا ہے تو اس کے بعد اس کی ساری جائیداد کی وارث اس کی بیٹی بن جاتی ہے اور ان کی جائیداد قبیلے یا خاندان سے باہر نہیں جاتی۔



ایک بنگلہ دیشی میگزین نے اس قبیلے کی ایک ایسی ہی لڑکی کا انٹرویو کیا ہے
 جس کی شادی اس کی ماں کی دوسری شادی کے موقع پر اس کے سوتیلے باپ کے ساتھ کر دی تھی اور اس وقت اس کی عمر تین سال تھی۔

 اورلا دلبوت اس وقت 30سال کی ہے اور اس کی اپنی ماں کے دوسرے خاوند اور اپنے سوتیلے باپ سے تین بچے ہیں جن میں بڑے بیٹے کی عمر 14سال ہے
 جبکہ ایک بیٹی 7سال کی جبکہ سب سے چھوٹی لڑکی کی عمر 19ماہ ہے۔



 اورلا اور اس کی ماں متامونی کی محض چند ایکڑ زمین ہے جس پر وہ انناس اور کیلوں کی فصل تیار کر کے اپنی گزر بسر کرتی ہیں۔

 اورلا کے مطابق جب اسے بلوغت پر اپنے سوتیلے باپ کی بیوی ہونے کا انکشاف ہوا تو اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ یہاں سے بھاگ جائے، نوتن کو اپنی ماں کے ساتھ دیکھ کر وہ خوش ہوتی تھی اور دونوں کی سلامتی کیلئے دعا کرتی تھی ، وہ بھی چاہتی تھی کہ نوتن جیسا اس کا بھی شوہر ہو مگر جب اسے یہ پتہ چلا کہ ماں کی شادی کے ساتھ اس کی بھی شادی نوتن سے کر دی گئی ہے
 تو وہ لمحہ اس کیلئے بہت اذیت ناک تھا مگر پھر اس نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔

دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک میں باپ سے بیٹی کی شادی کو انتہائی شرمناک سمجھا جاتا ہے  اور اس کا شاید کوئی مہذب معاشرہ تصور بھی نہیں کر سکتا...




امریکی ریاست فلوریڈا میں تباہی مچانے والے طوفان ارما نے ایک طرف تو بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور لوگوں کی زندگیاں نگل لیں، وہیں ایک اور عجیب و غریب واقعہ بھی دیکھنے میں آیا۔

طوفان ارما نے جزائر کیریبیئن میں بہاماس کے علاقے میں موجود سمندر بالکل خشک کردیا اور سمندر کی تہہ ایک راستے کی صورت نمودار ہوگئی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر و ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بہاماس کے ایک علاقے کا ساحلی مقام بالکل خشک ہے جس میں دور ایک جزیرہ بھی ٹیلے کی مانند نظر آرہا ہے۔

دراصل یہاں طوفان کی شدت سے سمندر کا پانی اڑ گیا ہے اور سمندر کا مذکورہ حصہ خشک دکھائی دے رہا ہے، تاہم طوفان کے گزر جانے کے بعد سمندر اپنی معمول کی حالت پر واپس آگیا۔



ٹوئٹر پر ایک خاتون نے اس بارے میں لکھا، ’یہاں سے سمندر کا پانی لاپتہ ہوگیا‘۔

ماہرین کے مطابق یہ ایک نہایت انوکھا واقعہ تو ضرور ہے لیکن یہ ایک بہت ہی نایاب قدرتی مظہر ہے جو عشروں بلکہ صدیوں میں ایک سے 2 مرتبہ ہی دکھائی دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سمندر میں بننے والے طوفان (ہریکین) میں ہوا کا دباؤ بہت کم ہوتا ہے اور جیسے جیسے اس کے مرکز (آنکھ) کی طرف بڑھتے ہیں ویسے ویسے ہوا کا یہ دباؤ اور بھی کم ہوتا چلا جاتا ہے۔

 کم دباؤ والا حصہ اپنے ارد گرد کی ہوا بڑی تیزی سے کھینچتا ہے جس کے نتیجے میں آس پاس کے علاقوں میں تیز ہوائیں چلتی ہیں۔

 لیکن اگر طوفان بہت زیادہ شدید اور طاقتور ہو تو وہ ہوا کے ساتھ ساتھ سمندر کا پانی بھی اپنے اندر کھینچنے لگتا ہے۔



اگر طوفان کے مرکز سے قریب کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں سمندر کی گہرائی نسبتاً کم ہو تو وقتی طور پر (صرف چند منٹوں یا گھنٹوں کے لیے) اس جگہ کا پانی خشک ہوجاتا ہے کیونکہ طوفان اسے اپنے اندر گویا چوس لیتا ہے
۔طوفان کے گزر جانے یا ختم ہوجانے کے بعد سمندر کا پانی معمول کے مطابق واپس آجاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے قدرتی مناظر ہمیں صرف اس لیے عجیب و غریب یا پراسرار محسوس ہوتے ہیں کیونکہ یہ برسوں اور صدیوں میں ایک یا دو مرتبہ ہی رونما ہوتے ہیں ورنہ یہ قوانین قدرت کے عین مطابق ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا میں ایک ہفتے کے اندر آنے والے 2 سمندری طوفان ہاروے اور ارما بحر اوقیانوس کی تاریخ کے بدترین اور تباہ کن طوفان قرار دیے جارہے ہیں۔

امریکی ریاست فلوریڈا میں تباہی مچانے والے طوفان ارما نے ایک طرف تو بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور لوگوں کی زندگیاں نگل لیں، وہیں ایک ا...


سعودی عرب کا ایک قبرستان ۳۰ سال سے بند پڑا تھا آخر فیصلہ ہوا اب اسکو برابر کر دیا جاے اور گورنمنٹ نے اجازت دے دی اور یہ ایک کمپنی کو اسکا ٹھکہ مل گیا اور کمپنی نے اپنا کام شروع کیا کام کے دوران بوسیدہ ہڈیاں اور بدبو کے علاوہ کچھ نہ تھا کام کے دوران جب ایک جگہ کھودائی کی گی تو وہاں بدبو کے بجاے

خشبو محسوس ہونے لگیمزدوروں نے کمپنی کو خبر دی اور انھوں نے محکمہ اموات کو اور دوسروں ادروں کو خبر دی اور کام روک دیا گیا اور جب سب لوگ جمع ہوگے تو کام دوبارہ شروع کیا گیازمیین کی مٹی انتہا نرم تھی اور اس میں کافور اور مشک کی خشبو ملی ہوی تھی پھر ایک میت ملی جسکا کفن ویسے کا ویسا تھا ریکارڈ چیک کیا گیا تو پتہ چل رہا تھا جیسے آج سے تیس سال پہلے دفن کیا گیا تھا خیر قبر سے نکالا گیا تو مردہ کا چہرہ کھولا گیا تو وہ تروتازہ جیسے ابھی ہی مرا ہوا ہو گاوں کے لوگوں نے پہچانا یہ فلاں کا بیٹا ہے۔



وہ شخص بہت ضعیف تھا چل پھر نہیں سکتا جنازہ اسکے گھر لے جایا گیا۔باپ کو دیدار کرایا گیا اس نے نے شکر کرتے ہوے کہا تیری قدرت تیس سال پہلے جنازہ نکلا اور تیس سال پھر اسی حالت میں گھر لاکر مجھے دیدار کرایا گیا تیری قدرت کا کیا کہنا اور روتا جارہا تھا اوراس منظر نے سب کی انکھیں نم کردی۔

پھر اسکی اجازت سے دوسرے قبرستان میں دفن کیا گیا۔پھر باپ سے پوچھا گیا تیرے بیٹے کے وہ کونسے عمل تھے ؟

باپ نے جواب دیا میرا بیٹا الله سے بہت محبت کرتا تھا پہلی صفت میں نماز پڑھتا تھا کبھی ایسی صبع نہ گزری تھی جب میں نے فجر کی آواز دی اور میں نے اسکو جاگا ہوا نہ پایا کبھی کبھی تو وہ اذان سے پہلے ہی مسجد چلا جاتا تھا کوئی نماز قضاء نہیں کرتا تھااور تو مجھے کچھ پتہ نہیں ہے۔



وہ کچھ کرتا ہو۔قران میں الله نے فرمایا جو الله سے محبت کرتا ہے الله بھی ان سے محبت کرتا ہے۔

اور الله نے بتایا اے بندے میں نے تیری محبت کو قبول کیا تجھ کو کیڑوں کی خوار اک نہیں بنایا۔

نماز تو ہم سے بہت لوگ پڑتے ہونگے مگر نماز کا اہتمام بہت کم لوگ کرتے ہیں۔

محبت تو ہم سب کرتے ہیں مگر محبت کا ثبوت بہت کم لوگ دیتے ہونگے

سعودی عرب کا ایک قبرستان ۳۰ سال سے بند پڑا تھا آخر فیصلہ ہوا اب اسکو برابر کر دیا جاے اور گورنمنٹ نے اجازت دے دی اور یہ ایک کمپنی کو اسکا...



ایرانی نژاد ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر مہران کیشے نے اپنی ایک حالیہ تحقیق کے بعد خوفناک انکشاف کیا ہے کہ مستقبل قریب میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ آنے والا ہے جس کے نتیجے میں تقریباً چار کروڑ افراد لقمہ اجل بن جائیں گے ۔

خبر کے مطابق ڈاکٹر کیشے کا کہنا ہے کہ یہ زلزلہ براعظم ایشیاءاور امریکہ کو نشانہ بنائے گا جس کے نتیجے میں شمالی اور جنوبی امریکہ کی براعظمی پلیٹیس ٹکڑوں میں بٹ جائیں گی اور ان براعظموں میں واقع ممالک تباہ وبرباد ہوجائیں گے ڈاکٹر کیشے کہتے ہیں کہ ریکٹر اسکیل پر 6 اور 8.3 شدت کے زلزلے محض ایک ابتدا ہونگے اور آنے والے موسم خزاں سے پہلے سب سے بڑا زلزلہ آسکتاہے جو اس قدر تباہی کرے گا کہ اسے سب سے بڑی تباہی قرار دیا جاسکتاہے ۔



ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں مین دس سے 6 شدت کے زلزلے آئیں گے اور بعض ممالک میں تو ان کی شدت 20 سے 24 تک ہوگی ۔
یہ زلزلے زمین کے جنوبی نصف کرہ کو صفحہ ہستی سے مٹاسکتے ہیں ۔
ڈاکٹر کیشے کا یہ بھی کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں چین اور جاپان سب سے پہلے زلزلے کا نشانہ بن سکتے ہیں ۔



ایرانی ماہریان کا کہنا ہے کہ عالمی پیمانے پر آنے والے ان زلزلوں کے نتیجے میں دنیا کی معیشت تباہ ہوجائے گی اور عالمی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ جائیگا گویا ایک طرح سے دنیا خاتمے کے قریب پہنچ جائے گی ۔

ایرانی نژاد ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر مہران کیشے نے اپنی ایک حالیہ تحقیق کے بعد خوفناک انکشاف کیا ہے کہ مستقبل قریب میں انسانی تاریخ کا سب ...



بوڑھے شخص نے اپنی تدفین سے کچھ دیر قبل ہی آنکھیں کھول کر اپنے رشتے داروں سے پوچھا کہ یہ سب کیاہورہاہے؟ 75 سالہ شخص کی سانس رک گئی تھی اور اس کےہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے تھے،

جس پر اس کے بیٹے ، ہوانگ منگ کوان ، نے سمجھا کہ وہ مرگیاہے۔



تدفین سے پہلے اس کا بیٹا اور درجنوں رشتے دار وہاںموجود تھے۔

دفنانے کے آخری گھنٹے میں اچانک بیٹے نے تابوت میں باپ کا چہرہ دیکھنے کیلئے اس کا ڈھکن اٹھایا تو پتہ لگا کہ اس کا باپ تو زندہ تھا ۔اس کے باپ نے منہ باہر نکالا اور پوچھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟

کیا تم میرے جنازے کی تیاری کر رہے ہو؟



تو سب حیران رہ گئے۔بوڑھے کے زندہ ہونے کےبعد اس کے بیٹے اور رشتے داروں نے بھاگ کر اسے باہر نکالا اور بیڈ پر لٹادیا لیکن کمزوری کے باوجود بوڑھا اب بھی صرف دلیہ ہی کھا رہا ہے۔

یہ واقعہ جنوب مغربی چین کے صوبے سیچوان کی جونلیان کاؤنٹی میں پیش آیا۔

بوڑھے شخص نے اپنی تدفین سے کچھ دیر قبل ہی آنکھیں کھول کر اپنے رشتے داروں سے پوچھا کہ یہ سب کیاہورہاہے؟ 75 سالہ شخص کی سانس رک گئی تھی ا...



،پاکستان کا ایک ایسا گاؤں جہاں سات سال سے سگریٹ نوشی پر پابندی ہے

،تفصیلات کے مطابق ضلع فیصل آباد میں واقع ماموں کانجن کا ایک نواحی گاؤں 493 گ ب میں گزشتہ سات سال سے چرس

افیون، ہیروئن تو دور کی بات ہے

،کسی دکان پر سگریٹ تک فروخت نہیں ہوتے

تمام گاؤں والے امام مسجد کی بات مانتے ہیں

،اور انہی کے کہنے پر یہاں سگریٹ نوشی پر پابندی ہے

،گاؤں کے تمام بوڑھے لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں حقہ پینے کی اجازت دی گئی ہے

،امام مسجد مولانا محمد امین کے کہنے پر کسی کو شادی بیاہ یا دیگر خوشی کے مواقع پر ڈھول



گانے بجانے اور آتش بازی کی بھی اجازت نہیں ہے، گاؤں والے جب اپنے بچوں کی شادی کسی دوسرے شہر کرتے ہیں

تو پہلے ان کو مذکورہ رسوم نہ کرنے کا بتا دیتے ہیں، گاؤں میں ٹی ایم اے کے خاکروب نہیں ہیں

اور گاؤں کے نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہلال ویلفیئر سوسائٹی کے نام سے تنظیم بنا رکھی ہے

،جو تمام سماجی و فلاحی کام بہت اچھے طریقے سے انجام دے رہی ہے

،لڑائی جھگڑے کے تمام معاملات گاؤں کی مسجد میں بیٹھ کر حل کیے جاتے ہیں

،یہ گاؤں صفائی کے حوالے سے فیصل آباد کا مثالی گاؤں اور صفائی پر انعام بھی حاصل کر چکا ہے
دس ہزارسے زائد کی آبادی کے گاؤں میں صرف ایک مرکزی مسجد ہے

،جہاں پر تمام لوگ نماز جمعہ اور عیدین کی نمازیں پڑھتے ہیں

،باقی نمازیں گاؤں کی دوسری مساجد میں جو گاؤں والوں کے نزدیک ترین ہوتی ہیں وہاں پڑھتے ہیں

،لیکن ایک اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں اذان صرف مرکزی مسجد میں دی جاتی ہے



،اور یہ اذان تمام مساجد کے لاؤڈ سپیکر سے سنائی دیتی ہے
،اس گاؤں کے لوگ امام مسجد کی باتوں پر عمل کرتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ یہاں پر سگریٹ نوشی پر پابندی ہے۔

،پاکستان کا ایک ایسا گاؤں جہاں سات سال سے سگریٹ نوشی پر پابندی ہے ،تفصیلات کے مطابق ضلع فیصل آباد میں واقع ماموں کانجن کا ایک نواحی گا...



ان دنوں میں لاہور میں نیا نیاآیا تھا اور ایک نجی ہوسٹل میں رہتا تھا۔ہوسٹل میانی صاحب سے ایک کلومیٹر فاصلہ پر تھا ۔

میری عادت تھی کہ جمعرات کو قبرستان جاتا اور اہل قبر کے لئے دعا کرتا تھا ۔ایک دن میں دعا کرکے میں واپس پلٹ رہا تھا کہ اچانک ایک نوجوان میرے سامنے آگیا ۔

وہ معمولی سی جسامت کا مالک تھا،ہڈیاں اندر کو دھنسی ہوئیں ،کھالبھی جسم سے چمٹی ہوئی تھی۔لگتا تھا برسوں سے بھوکا ہے یا بیمار ہے ۔

لیکن اس کے ہاتھ میں کدال دیکھ کر سمجھ آگئی کہ یہ گورکن ہے۔ ’’ آپ جس قبر پر دعا کررہے تھے ادھر کوئی نہیں ہے ‘‘ اس نے مہین سی آواز میں ایسا انکشاف کیا کہ میں غور سے اسکو دیکھنے پر مجبور ہوگیا ۔

’’تمہیں کیسے پتہ؟‘‘ میں نے الجھی نظروں سے سوال کیا۔ اس نے کاندھے اچکائے اور چلا گیا ۔اس دوران چند لوگ ادھر نکل آئے۔انہوں نے اسے آواز دی۔’’

اوئے رمضانی بات سنتاجا‘‘ وہ اسکے پاس گئے تو میں بھی ان کے قریب چلا گیا ۔ ’’

کوئی جگہ بتا ،داداجی کی قبر کھودنی ہے‘‘ ان میں سے ایک نے سو سو کے چند نوٹ نکال کر اسے دئے۔اس نے جیب میں ڈالے اور انہیں اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔نہ جانے میں بھی ان کے پیچھے پیچھے کیوں چل دیا ۔

ایک ڈھلوان نما نشیب کے پاس چند قبروں کے پاس کھڑے ہوکر وہ قبروں کو سونگھنے کے انداز میں دیکھتا رہا ۔پھر اشارہ کیا ’’ یہ قبر خالی ہے ‘‘ ’’اچھا تو پھر قبر بھی بنادے،جنازہ عشاء کے بعد لانا ہے

‘‘ ایک موٹے سے بندے نے کہا۔میں بڑا حیران ہوا کہ کہ اسے کیسے معلوم کون سی قبر خالی ہے اور کس میں مردہ ہوگا ۔

ذہن میں آیا کہ لازمی ان لوگوں نے جعلی قبریں بنا رکھی ہیں اور پیسے لیکر قبریں دیتے ہیں ۔

یہ بھی تو ایک دھندہ ہی تھا ۔



لیکن میرا خیال اس وقت ریزہ ریزہ ہوگیا جب میں نے بڑے اور بوڑھے گورکن سے یہ سوال کیا’’ تم لوگ قبریں بھی بیچتے ہو‘‘ اس نے چونک میری جانب دیکھا اور پوچھا ’’ کیا ہوا صاب‘‘میں نے رمضانی کے بارے اسے بتایاتو اسکے چہرے پر کرب ناک سی تاریکی چھا گئی۔

پہلے اس نے کچھ بتانے میں تامّل برتا۔چند لمحوں بعد بولا’’ وہ قبر کا بیٹا ہے،مٹی تو بتائے گی ناں اسے کہ اسکی ماں کی گود میں کون سویا ہوا ہے ‘‘ یہ سن کر مجھے اسکی دماغی صحت پر شک ہوا ’’ میں سمجھا نہیں ‘‘ ’’ تو سمجھے گا کیسے ،یہ بات تو کوئی بھی نہیں

سمجھ پایا ،یہ جانتا ہوں تو صرف میں۔پینتیس سال پہلے اسی قبرستان کا واقعہ ہے ۔

اس وقت میری عمر چالیس سال تھی۔رمضان کا مہینہ تھا ۔یہ تاریک رات تھی،بارش ہورہی تھی اور بجلیاں کڑک رہی تھیں ۔

میں اس ڈھیری کی جانب سے ‘‘ اس نے بائیں طرف انگلی کا اشارہ کیا ’’ اپنی کٹیا میں جارہا تھا کہ مجھے ایک بچے کے رونے کی آواز آئی ۔

میں رک گیا اور آواز کا پیچھا کرتا ہوا اس جگہ پہنچا تو دیکھا یہ آواز ایک تازہ قبر سے آرہی تھی جس کو بارش نےاب کافی ننگا کردیا تھا ۔قبر تقریباً بیٹھ رہی تھی ،بچے کی آواز اسی قبر سے آرہی تھی۔میں نےہمت کی اور قبر کھود کر جب نیچے کی طرف دیکھا تو اس لمحہ بجلی زور سے کڑکی ۔

اسکی روشنی قبر میں سفید کفن میں ایک عورت آڑھی ترچھی ہوئی پڑی تھی ،کفن بارش کے پانی اور مٹی سے میلا ہورہا تھا ،اس کے اندر ہلچل ہورہی تھی اور بچے کی آواز آرہی تھی۔



یہ منظر دیکھ کر میں بہت گھبرایا،سمجھا کہ یہ کوئی جن بھوت کا کام ہے ۔

اللہ نے مجھے ہمت دی اور میں نے نیچے اتر کر کفن ہٹایا تو نیچے ایک بچہ پڑا تھا جو لگتا تھا ایک دن پہلے پیدا ہواتھا ۔

یہ بچہ اسی عورت کا تھا ،اور لگتا تھا وہ ایک دو دن پہلے مر چکی تھی ۔میں نے بچہ اٹھایااور اپنیکٹیا میں اسے لے آیا ۔اپنی بیوی کو دیا اور اسے سارا واقعہ بتایا ۔اللہ والی کو اس بچے پر بڑا پیار آیا اور اسے ہم نے پالا ۔

اسکا نام محمد رمضان رکھا ۔سارے لوگ اسے رمضانی کہتے ہیں ۔


ایک اور بات ۔۔میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح پتہ کروں کہ اس قبر والی عورت کے وارث کون تھے لیکن جب ناکام رہا تو رمضانی کو ہم نے ماں باپ بن کر پالا ۔

یہ ابھی بچہ ہی تھا مگر اسے قبر وں سے بڑا پیار ہوگیا،یہ قبروں سے لپٹ کر سوتا ہے۔اللہ نے اسکے اندر کوئی ایسی قوت رکھی ہے

کہ یہ قبر سونگھ کر بتا دیتا ہے کہ اس میں جو مردہ ہے وہ عورت کا ہے

یا مرد کا،بچے کا ہے یا بڑے کا۔کتنا پرانا ہے‘‘ آج جب یہ واقعہ بیان کررہا ہوں تو میری برسوں پرانی حیرتوں کا سفر تمام ہوگیا ہے ،کیونکہ آج ہی میں نے افریقہ کی ایک خبر پڑھی ہے جس میں اس واقعہ سے ملتا جلتا واقعہ بیان کیا گیا ہے ۔

نہ جانے افریقہ میں قبر میں جنم لینے والے بچے میں رمضانی جیسی قوت موجود ہے یا نہیں

ان دنوں میں لاہور میں نیا نیاآیا تھا اور ایک نجی ہوسٹل میں رہتا تھا۔ہوسٹل میانی صاحب سے ایک کلومیٹر فاصلہ پر تھا ۔ میری عادت تھی کہ ج...



آپ کے پاؤں ڈاکٹر کے لیے ایک حیرت انگیز تشخیصی آلے کے طور پر کام کرتے ہیں کیونکہ وہ ان سے کئی بیماریوں کے خطرات کے بھانپ سکتا ہے-

درحقیقت انسان کے پاؤں کی حالت صحت کے مختلف مسائل کی جانب اشارہ کر رہی ہوتی ہے- پاؤں یہ حالت دراصل ان بیماریوں کی علامت ہوتی ہے-

ہم یہاں چند بیماریوں کی ایسی علامات کا ذکر کر رہے ہیں

جو آپ کے پاؤں سے ظاہر ہوتی ہیں-Dry, Flaking Skinاگر آپ کے پاؤں کی ایڑیاں خشک اور کھردری ہیں تو یہ تھارائیڈ کی خرابی کی جانب سے اشارہ کر کر کر کر کر رہی ہیں-

ہمارے تھارائیڈ گلینڈ ایسے ہارمون پیدا کرتے ہیں جو ہمارے بلڈ پریشر٬ ٹشو کی پیداوار اور اعصابی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں-

لیکن تھارائیڈ میں خرابی کا مطلب ہے ان تمام چیزوں میں خرابی پیدا ہونا- اگر آپ کے پاؤں کی جلد خشک ہے٬ اور اس کے ساتھ آپ کا وزن بڑھ رہا ہے٬ نظر کمزور ہورہی ہے اور ہاتھ سُن ہوجاتے ہیں تو آپ کو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے-Balding Toes مرد و خواتین کے پاؤں کی انگلیوں پر بالوں کا ہونا ایک عام سی بات ہے-

لیکن اگر آپ دیکھتے ہیں کہ یہ بال جڑ رہے ہیں یا پھر آپ کے پاؤں کی اںگلیاں مکمل گنجی ہوچکی ہیں
تو یہ اس بات کی علامت ہے آپ کے جسم میں خون کی گردش صحیح نہیں ہورہی- دورانِ خون میں مسئلے کی ایک وجہ شریانوں میں خرابی بھی ہوسکتی ہے
جو آپ کے پاؤں تک پہنچنے والے خون کو متاثر کر رہی ہے-

یہ خرابی ہارٹ اٹیک یا فالج کا سبب بھی بن سکتی ہے- ایسی علامت محسوس ہوتی ہے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے اور اس کے علاوہ تمباکو نوشی کو ترک کردی٬ غذا متوازن کر دیں اور ورزش کو معمول بنا لیں-Foot Numbness اگر آپ کے پاؤں سُن ہوجاتے ہیں

تو یہ بھی اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ پاؤں کی طرف خون کی گردش میں کوئی خرابی پیدا ہوچکی ہے-

ممکن ہے اگر آپ ایک ہی پوزیشن میں کافی وقت تک بیٹھے رہتے ہیں یا غلط انداز میں سو جاتے ہیں

تو اس وجہ سے بھی آپ کا پاؤں سُن ہوجائے- لیکن اگر یہ مسئلہ اکثر رہتا ہے تو پھر آپ کو اسے نظر انداز نہیں



کرنا چاہیے- پاؤں کا سُن ہونا ذیابیطیس ٹائپ 2 کا مرض لاحق ہونے کی علامت بھی ہوسکتی ہے- ذیابیطیس کے مریضوں میں پاؤں کی جانب ہونے والی خون کی گردش میں پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں

اور اسی وجہ سے ان کے زخم بھی آسانی سے ٹھیک نہیں ہوتے-

روزانہ کی ورزش اور صحت بخش غذا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں-Black Spots or Lines Under Your Toenails عام طور پر اگر آپ کے پاؤں کی انگلیوں یا اس کے ناخن والے حصے پر کوئی بھاری چیز گر جائے تو اس کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے-

لیکن اگر آپ کے پاؤں کے انگوٹھے کے ناخن پر کالی یا بھوری لکیریں موجود ہیں

جبکہ آپ کو اچھی طرح یاد ہے کہ آپ کا پاؤں زخمی بھی نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اس کے ناخنوں پر کوئی چوٹ پہنچی تھی تو پھر آپ کو ڈاکٹر سے فوراً رابطہ کرنا چاہیے-

یہ لکیریں melanoma نامی بیماری کی علامت بھی ہوسکتی ہیں-

یہ ایک جلد کا کینسر ہوتا ہے اور اسے ہرگز نظر انداز مت کیجیے-Morning Foot Painاگر مریض یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں  کہ صبح سویرے ان کے پاؤں میں شدید درد ہوتا ہے- جب وہ بستر سے نیچے چند قدم رکھتے ہیں تو ان کے پاؤں میں درد شروع ہوجاتا ہے- یہ rheumatoid arthritis (RA) کی علامت بھی ہوسکتی ہے جسے عام زبان میں جوڑوں کا درد کہا جاتا ہے- جوڑوں کا درد جوڑوں میں سوزش پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے- اس سلسلے میں اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کے علاوہ روزانہ ورزش کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ آپ کے جسم کے تمام جوڑ مضبوط اور صحت مند ہوں-

آپ کے پاؤں ڈاکٹر کے لیے ایک حیرت انگیز تشخیصی آلے کے طور پر کام کرتے ہیں کیونکہ وہ ان سے کئی بیماریوں کے خطرات کے بھانپ سکتا ہے- درحق...




دنیا میں ہر شریف آدمی بیوی سے ڈرتا ہے‘ ان میں سے کچھ لوگ اس خوف کا اعتراف کر لیتے ہیں

جبکہ کچھ لوگ خود کو دوسروں کے سامنے بہادر ثابت کرتے ہیں۔

اپنی جرات اور بے باکی کے دعوے کرتے ہیں لیکن جونہی گھر میں داخل ہوتے ہیں

تو ان کی حالت بھی دوسروں جیسی ہی ہوتی ہے‘ یہ بھی اسی طرح عاجزی‘ انکساری اور برد باری کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔  امریکا میں ایک بار بہادر ترین شخص کامقابلہ ہوا۔

مقابلہ جیتنے والے کیلئے گھوڑا‘انعام میں رکھا گیا تھا۔
یہ مقابلہ میکسیکو کے ایک کسان نے جیت لیا۔ اس کسان کے سامنے بھوکا شیر لایا گیا تھا‘ وہ شیر سے نہیں ڈرا‘ اسے لٹا کر اس کے اوپر سے ہاتھی گزارا گیا۔

ہاتھی کا پاﺅں اس کے جسم سے آدھ انچ کے فاصلے سے گزرالیکن وہ نہیں ڈرا‘ اسے رسے سے باندھ کر پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرایا گیا لیکن وہ نہیں ڈرا‘ اس کے پاﺅں باندھ کر اسے دریا میں پھینک دیا گیا لیکن وہ نہیں



ڈرا اور آخر میں رات کے اندھیرے میں اسے ریل کی پٹڑی پر باندھ دیا گیا۔ پوری ٹرین اس کے اوپر سے گزر گئی۔
وہ موت کو ایک انچ کے فاصلے سے گزرتا ہوا دیکھتا رہا لیکن وہ نہیں ڈرا چنانچہ وہ یہ مقابلہ جیت گیا۔ اسے دنیا کے بہادر ترین انسان کا خطاب دے دیا گیا۔

مقابلہ جیتے کے بعد اس کے سامنے دو گھوڑے لائے گئے‘ ایک کا رنگ سیاہ تھا اور دوسرا سفید تھا۔ اسے دونوں میں سے ایک گھوڑا پسند کرنے کی چوائس دی گئی‘ اس نے سفید گھوڑا پسند کیا۔

گھوڑے پر بیٹھا اور چلا گیا۔ اگلے دن وہ واپس آیا‘ سفید گھوڑا منتظمین کو واپس کیا اوران سے درخواست کی‘ آپ مجھے سیاہ گھوڑا دے دیں۔

منتظمین نے حیرت سے پوچھا ”کیوں؟

“ دنیا کے بہادر ترین شخص نے جواب دیا ”میں سفید گھوڑا لے کر گھر پہنچا تو میری بیوی نے کہا ”کیا تم سیاہ گھوڑا نہیں

لے سکتے تھے‘ تم میں اتنی بھی عقل نہیں‘ جاﺅ یہ واپس کرو اور سیاہ گھوڑا لے کر آﺅ“ دنیا کے بہادر ترین شخص کا کہنا تھا ”آپ مہربانی کر کے مجھے گھوڑا تبدیل کر دیں ورنہ میری بیوی مجھے زندہ نہیں چھوڑے گی“۔

مرد بیویوں سے اتنے ڈرتے کیوں ہیں؟

شائد ان لئے کہ بیویاں اسٹیبشلمنٹ ہوتی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر سکون کے ساتھ حکومت کرنا آسان نہیں ہوتا

۔

دنیا میں ہر شریف آدمی بیوی سے ڈرتا ہے‘ ان میں سے کچھ لوگ اس خوف کا اعتراف کر لیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ خود کو دوسروں کے سامنے بہادر ثابت ...



عام طورپرسب جانتے ہیں کہ دنیامیں ایسے جانوربھی ہیں

جوکہ انسان کودیکھتے ہیں اس پرحملہ کردیتے ہیں اورلمحوں میںہی انسان کوچبائے بغیرنگل لیتے ہیں
لیکن انڈونیشیاکے ایک گائوں میں اسی طرح کاایک خوفناک واقعہ پیش آیاہے

کہ ایک دیوہیکل سانپ (Gaint Python)نے ایک شہری کونگل لیا۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اکبرسالابیرواپنے دوستوں کے ہمراہ پام آئل کے کھیتوں میں کام کرنے کےلئے گیااور پام آئل کے پتے کاٹتے ہوئے اس کوایک دیوہیل سانپ نے خاموشی سے نگل لیاجس پراس کے دیگرساتھیوں نے اکبرکی تلاش شروع کردی کہ ساتھ ہی ان کوکسی انسان کے چیخنے چلانے کی آوازیں بھی آئیں توانہوں نے دیکھاکہ ساتھ ہی باغ میں ایک دیوہیکل سانپ گھوم رہاہے اوراس کاپیٹ بڑھاہواہے جس سے ان کوشک پڑاکہ کہیں اس سانپ نے ہی توان کے ساتھی کونگل تونہیں لیا؟



یہ شک ہوتے ہی وہاں پرموجود افراد نے مقامی دیہاتیوں سے ایک شکاری چاقو لیا جوکہ تین فٹ کاتھااوراس دیوہیکل سانپ کوپکڑاکراس کے پیٹ کوچیراتووہاں پرموجود سب افرادحیران رہ گئے تھے کہ اس سانپ کے پیٹ سے ان کے ساتھی کی لاش ملی جوکہ مرچکاتھالیکن اس کوسانپ نے کچلنے اورچبانے کے بجائے نگل لیاتھا۔


سانپ نے صرف اکبرکے گلے کوپکڑاتھااوربعدمیں نگل لیاجس کی وجہ سے اکبر کے جسم پرصرف اس کے گلے پرہی سانپ کے دانتوں کے نشانات پائے گئے جبکہ باقی جسم پرصرف اس سانپ کے پیٹ کے اندرموجود خون کے دھبے ہی موجود تھے ۔

اس لرزہ خیزواقعہ کے بعد علاقے میں خوف پھیل گیاکہ کس طر ح خاموشی سے ایک دیوہیل سانپ نے چلتے پھرتے شخص کواتنی خاموشی اورآسانی سے اپناشکاربنالیا۔واضح رہے

کہ انڈونیشیاکے جنگلات ا ور دیگرعلاقوں میں ایسے سانپوں کی بہتات ہے جو جسامت میں انسانوں سے بھی کئی گنابڑے ہیں

اوران کی جسامت مگرمچھوں کے برابرتک ہوتی ہے

اوران کی شکلیں بھی عام سانپوں کے بجائے الگ قسم کی ہوتی ہیں

جبکہ بعض افراد ان سانپوں کاشکارکرکے ان کے جسم سے حاصل ہونے والے قیمتی چمڑے کوفروخت کرکے بھاری معاوضے بھی کماتے ہیں ۔

عام طورپرسب جانتے ہیں کہ دنیامیں ایسے جانوربھی ہیں جوکہ انسان کودیکھتے ہیں اس پرحملہ کردیتے ہیں اورلمحوں میںہی انسان کوچبائے بغیرن...



ایک نیک شخص کے گھر کی دیوار اچانک گر گئی ۔ 

اسے بڑی پریشانی لاحق ہوئی اور وہ اسے دوبارہ بنوانے کے لئے کسی مزدور کی تلاش میں گھر سے نکلا اور چوراہے

 پر جاپہنچا ۔

 وہاں اس نے مختلف مزدوروں کو دیکھا جو کام کے انتظار میں بیٹھے تھے ۔ان میں ایک نوجوان بھی تھا جو سب سے الگ تھلگ کھڑا تھا ، اس کے ایک ہاتھ میں تھیلا اور دوسرے ہاتھ میں تیشہ تھا ۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ ، ”میں نے اس نوجوان سے پوچھا ،”کیا تم مزدوری کروگے؟

”نوجوان نے جواب دیا،”ہاں!” میں style="text-align: right;">نے کہا ،”گارے کا کام کرنا ہوگا۔” نوجوان کہنے لگا،”ٹھیک ہے! لیکن میری تین شرطیں ہیں اگر تمہیں منظور ہوں تو میں کام کرنے کے لئے تیار ہوں، پہلی شرط یہ ہے کہ تم میری مزدوری پوری ادا کرو گے ،دوسری شرط یہ ہے 

کہ مجھ سے میری طاقت اور صحت کے مطابق کام لو گے اور تیسری شرط یہ ہے کہ نماز کے وقت مجھے نماز ادا کرنے سے نہیں روکو گے ۔”میں نے یہ تینوں شرطیں قبول کر لیں اور اسے ساتھ لے کر گھر آگیا،جہاں میں نے اسے کام بتایا اور کسی ضروری کام سے باہر چلا گیا ۔جب میں شام کے وقت واپس آیا تو دیکھا کہ اس نے عام مزدوروں سے دوگنا کام کیا تھا ۔ 

میں نے بخوشی اس کی اجرت ادا کی اور وہ چلا گیا ۔ 

دوسرے دن میں اس نوجوان کی تلاش میں دوبارہ اس چوراہے پر گیا لیکن وہ مجھے نظر نہیں آیا ۔ 

میں نے دوسرے مزدوروں سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ہفتے میں صرف ایک دن مزدوری کرتا ہے ۔ یہ سن کر میں سمجھ گیا کہ وہ عام مزدور نہیں بلکہ کوئی بڑا آدمی ہے ۔

 میں نے ان سے اس کا پتا معلوم کیا اور اس جگہ پہنچا تو دیکھا کہ وہ نوجوان زمین پر لیٹا ہواتھا اور اسے سخت بخار تھا ۔ میں نے اس سے کہا ،”میرے بھائی!تو یہاں اجنبی ہے ،تنہا ہے اور پھر بیمار بھی ہے ، اگر پسند کرو تو میرے ساتھ میرے گھر چلو اور مجھے اپنی خدمت کا موقع دو ۔” 

اس نے انکار کر دیا لیکن میرے مسلسل اصرار پر مان گیا لیکن ایک شرط رکھی کہ وہ مجھ سے کھانے کی کوئی شے نہیں لے گا، میں نے اس کی یہ شرط منظور کر لی اور اسے اپنے گھر لے آیا ۔ 

وہ تین دن میرے گھر قیام پذیر رہا لیکن اس نے نہ تو کسی چیز کا مطالبہ کیا اور نہ ہی کوئی چیز لے کرکھائی ۔ چوتھے روز اس کے بخار میں شدت آگئی تو اس نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہنے لگا،”میرے بھائی !لگتا ہے کہ اب میراآخری وقت قریب آگیا ہے

 لہذا جب میں مر جاؤں تو میری اس وصیت پر عمل کرنا کہ،”جب میری روح جسم سے نکل جائے تو میرے گلے میں رسی ڈالنا اور گھسیٹتے ہوئے باہر لے جانا اور اپنے گھر کے اردگرد چکر لگوانا اور یہ صدا دینا کہ لوگو! دیکھ لو اپنے رب تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والوں کا یہ حشر ہوتا ہے ۔

”شاید اس طرح میرا رب عزوجل مجھے معاف کر دے ۔ جب تم مجھے غسل دے چکو تو مجھے انہی کپڑوں میں دفن کر دینا پھر بغداد میں خلیفہ ہارون رشید کے پاس جانا اور یہ قرآن مجید اور انگوٹھی انہیں دینا اور میرا یہ پیغام بھی دینا کہ،”اللہ عزوجل سے ڈرو! کہیں ایسا نہ ہو کہ غفلت اور نشے کی حالت میں موت آجائے اور بعد میں پچھتانا پڑے،لیکن پھر اس سے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔”

 وہ نوجوان مجھے یہ وصیت کرنے کے بعد انتقال کر گیا ۔میں اس کی موت کے بعد کافی دیر تک آنسو بہاتا رہا اور غمزدہ رہا ۔

 پھر (نہ چاہتے ہوئے بھی )میں نے اس کی وصیت پوری کرنے کے لئے ایک رسی لی اور اس کی گردن میں ڈالنے کا قصد کیا تو کمرے کے ایک کونے سے ندا آئی کہ ،”اس کے گلے میں رسی مت ڈالنا ، کیا اللہ عزوجل کے اولیاء سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے ؟” یہ آواز سن کر میرے بدن پر کپکپی طاری ہوگئی ۔

 یہ سننے کے بعد میں نے اس کے پاؤں کو بوسہ دیا اور اس کے کفن ودفن کاانتظام کرنے چلاگیا ۔ اس کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد میں اس کا قرآن پاک اور انگوٹھی لے کر خلیفہ کے محل کی جانب روانہ ہو گیا

۔وہاں جا کر میں نے اس نوجوان کا واقعہ ایک کاغذ پر لکھا اور محل کے داروغہ سے اس سلسلے میں بات کرنا چاہی تو اس نے مجھے جھڑک دیا اور اندر جانے کی اجازت دینے کی بجائے اپنے پاس بٹھا لیا ۔

 آخرِ کار !خلیفہ نے مجھے اپنے دربار میں طلب کیا اور کہنے لگا ،”کیا میں اتنا ظالم ہوں کہ مجھ سے براہ راست بات کرنے کی بجائے رقعے کا سہارا لیا ؟” 

میں نے عرض کی،”اللہ تعالیٰ آپ کا اقبال بلند کرے ، میں کسی ظلم کی فریاد لے کر نہیں آیا بلکہ ایک پیغام لے کر حاضر ہوا ہوں ۔” خلیفہ نے اس پیغام کے بارے میں دریافت کیا تو میں نے وہ قرآن مجید اور انگوٹھی نکال کر اس کے سامنے رکھ دی ۔ خلیفہ نے ان چیزوں کو دیکھتے ہی کہا ،

”یہ چیزیں تجھے کس نے دی ہیں ؟” میں نے عرض کی ،”ایک گارا بنانے والے مزدور نے ۔۔۔۔۔۔۔” خلیفہ نے ان الفاظ کو تین بار دہرایا،”گارا بنانے والا،گارا بنانے والا،گارا بنانے والا۔۔۔۔۔۔۔

”اور رو پڑا ۔کافی دیر رونے کے بعد مجھ سے پوچھا ،”وہ گارا بنانے والا اب کہاں ہے ؟

”میں نے جواب دیا ،”وہ مزدور فوت ہو چکا ہے ۔

”یہ سن کر خلیفہ بے ہوش ہو کر گر گیا اور عصر تک بے ہوش رہا ۔ میں اس دوران حیران وپریشان وہیں موجود رہا ۔ پھر جب خلیفہ کوکچھ افاقہ ہوا تو مجھ سے دریافت کیا ، ”اس کی وفات کے وقت تم اس کے پاس تھے ؟” میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو کہنے لگا،”اس نے تجھے کوئی وصیت بھی کی تھی ؟

”میں نے اسے نوجوان کی وصیت بتائی اور وہ پیغام بھی دے دیا جو اس نوجوان نے خلیفہ کے لئے چھوڑا تھا ۔ جب خلیفہ نے یہ ساری باتیں سنیں تو مزید غمگین ہو گیا اور اپنے سر سے عمامہ اتار دیا ، اپنے کپڑے چاک کر ڈالے اور کہنے لگا ،”اے مجھے نصیحت کرنے والے ! اے میرے زاہد وپارسا! اے میرے شفیق !۔۔۔۔۔۔”

 اس طرح کے بہت سے القابات خلیفہ نے اس مرنے والے نوجوان کو دئيے اور مسلسل آنسو بھی بہاتا رہا ۔ یہ سارا معاملہ دیکھ کر میری حیرانی اور پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا کہ خلیفہ ایک عام سے مزدور کے لئے اس قدر غم زدہ کیوں ہے ؟

 جب رات ہوئی تو خلیفہ نے مجھ سے اس کی قبر پر لے جانے کی خواہش ظاہر کی تو میں اس کے ساتھ ہو لیا ۔ 

خلیفہ چادر میں منہ چھپائے میرے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔جب ہم قبرستان میں پہنچے تو میں نے ایک قبر کی طرف اشار ہ کر کے کہا ،”عالی جاہ! یہ اس نوجوان کی قبر ہے ۔ 

” خلیفہ اس کی قبر سے لپٹ کر رونے لگا ۔ پھر کچھ دیر رونے کے بعد اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو گیا اورمجھ سے کہنے لگا ،”یہ نوجوان میرا بیٹا تھا ، میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میرے جگر کا ٹکڑا تھا ، ایک دن یہ رقص وسُرور کی محفل میں گم تھا کہ مکتب میں کسی بچے نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی اَلَمْ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ ترجمہ کنزالایمان : کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد (کے لئے )۔(پ27، الحدید:16) جب اس نے یہ آیت سنی تو اللہ تعالیٰ کے خوف سے تھر تھر کانپنے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور یہ پکار پکار کر کہنے لگا،”کیوں نہیں ؟ کیوں نہیں؟” اور یہ کہتے ہوئے محل کے دروازے سے باہر نکل گیا ۔ اس دن سے ہمیں اس کے بارے میں کوئی خبر نہ ملی یہاں تک کہ آج تم نے اس کی وفات کی خبر دی ۔” (حکایات الصالحین،ص 67)

ایک نیک شخص کے گھر کی دیوار اچانک گر گئی ۔  اسے بڑی پریشانی لاحق ہوئی اور وہ اسے دوبارہ بنوانے کے لئے کسی مزدور کی تلاش میں گھر سے ...


شادی کسی بھی انسان کی زندگی کا سب سے اہم اور سب سے حسین موقع ہوتا ہے . لوگ اس دن کیلئے سالوں پہلے سے ہی تیاری شروع کر دیتے ہیں. اور شادی میں سب سے اہم شادی کی پہلی رات یا سہاگ رات ہوتی ہے.آپ نے بہت سے شادیاں دیکھی ہوں گی لیکن ایک چیز جو ہر شادی اور ہر سہاگ رات میں ہوتی ہے وہ ہوتا ہے دودھ کا گلاس ہم آپکو بتاتے ہیں کہ  سہاگ رات کودولہا دلہن دودھ کیوں پیتے ہیں اور اسکا کیا فائدہ ہے. دودھ کا گلاس ہماری روایت کا حصہ بن چکا ہے اور یہ پاکستان اور ہندوستان میں ہزاروں سال سے چلتی آ رہی ہے. دودھ پینے سے جسم میں طاقت آ جاتی ہے اور آپ میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہے گاکہ وہ زندگی کی سب سے حسین رات کمزوری محسوس کرے. دودھ آپ کو ایکٹو بناتا ہے. کیوں کہ موبائل وغیرہ کے دور سے پہلے سہاگ رات کو ہی میاں بیوی پہلی دفعہ ملتے تھے اور انہوں نے ایک دوسرے کو جاننے کیلئے ساری رات بات چیت کرنی ہوتی تھی.  اس کے علاوہ دودھ سے جسم کی تھکاوٹ بھی ختم ہو جاتی ہے. کیوں کہ شادی کے دن تھکاوٹ ہو جاتی تو دودھ اس تھکاوٹ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے.دودھ پینے سے آپکا موڈ بھی خوش گوار ہو جاتا جو ان حسین لمحات کو اور بھی حسین بنانے کیلئے ضروری ہے.دودھ پینے سے نیند بھی اچھی آتی ہے. دودھ پینے سے جسم میں طاقت آ جاتی ہے اور آپ میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ وہ زندگی کی سب سے حسین رات کمزوری محسوس کرے. دودھ آپ کو ایکٹو بناتا ہے. کیوں کہ موبائل وغیرہ کے دور سے پہلے سہاگ رات کو ہی میاں بیوی پہلی دفعہ ملتے تھے
facebook.com/pg/publishpicture

شادی کسی بھی انسان کی زندگی کا سب سے اہم اور سب سے حسین موقع ہوتا ہے . لوگ اس دن کیلئے سالوں پہلے سے ہی تیاری شروع کر دیتے ہیں. اور شادی ...


ایک ہلکی داڑھی والاشخص حضرت عمر بن الخطابؓ اورحضرت علیؓ کے پاس بیٹھا تھا اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں اور زبان ذکر و تسبیح میں مشغول تھی۔ .حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا کہ آپ نے صبح کس حال میں کی؟ اس آدمی نے عجیب انداز سے جواب دیاکہ میں نے اس حال میں صبح کی کہ فتنہ کو پسند کرتا ہوں اور حق بات سے کراہت کرتا ہوں۔.اور بغیر وضو کے نماز پڑھتا ہوں اور میرے لیے زمین پر وہ چیز ہے جو آسمان پر اللہ کے لیے نہیں ہے! (یہ سن کر) حضرت عمرؓ طیش میں آ گئے اور اللہ کے دین کی خاطر انتقام لینے پر آمادہ ہو گئے اور اس آدمی کو پکڑ کر سخت سزا دینے لگے تو حضرت علیؓ نے ہنستے ہوئے کہا: اے امیر المومنین! یہ شخص جو یہ کہتاہے کہ وہ فتنہ کو پسند کرتاہے اس سے اس کی مراد مال و اولاد ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مال و اولاد کو فتنہ کہا گیا ہے: ’’اِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃ’‘‘‘ (الانفال:28) اور حق کو ناپسند کرتا ہے اس سے مراد موت کی ناپسندیدگی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وَجَآئتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ‘‘ (ق:19) اور بغیر وضو کے نماز پڑھتاہے اس سے مراد نبی کریمؐ پر صلوٰۃ (درود) بھیجنا ہے، ظاہر ہے کہ صلوٰۃ کے لیے وضو ضروری نہیں ہے۔ اور اس نے جو یہ کہا ہے کہ اس کے لیے زمین پر وہ چیز ہے جو آسمان پر اللہ کے لیے نہیں ہے اس سے اس کی مراد بیوی بچے ہیں، ظاہر ہے کہ اللہ کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد، وہ ذات تو یکتا بے نیاز ہے،.نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ حضرت عمر بن الخطابؓ کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا اورہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور خوشی سے جھومتے ہوئے فرمایا: وہ جگہ ہی کیا ہے جہاں ابوالحسنؓ نہ ہو یعنی علی بن ابی طالبؓ۔‘‘
facebook.com/pg/publishpicture

ایک ہلکی داڑھی والاشخص حضرت عمر بن الخطابؓ اورحضرت علیؓ کے پاس بیٹھا تھا اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں اور زبان ذکر و تسبیح میں م...