قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا وہ کلام برحق ہے جو قیامت تک کیلئے انسانوں کی رہنمائی کیلئے نبی کریمؐ کے ذریعے دنیا تک پہنچایا گیا۔

یہ نسخہ کیمیا دنیا جہان کے علوم اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔



قرآن کریم کے بے شمار معجزات کتابوں میں تحریر ہیں مگر آج ہم آپ کو یہاں ایک ایسا معجزہ دکھانے جا رہے ہیں

جسے دیکھ کر آپ کی زبان پر بے اختیار سبحان اللہ کا ورد شروع ہو جائے گا اور آنکھیں نم ہو جائیں گی۔



ترکستان کے شہر اندیجان میں پہاڑ سے چشمہ نے بہنا بند کردیا تو ایک مسلمان نے جاکر قرآن کی تلاوت کی اور دعا مانگی
تو پہاڑ نے چشمے کا منہ کھول دیا دعا کی قبولیت اور اللہ کی قدرت کا چشم دید نظارہ دیکھنے کو ملا ۔

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا وہ کلام برحق ہے جو قیامت تک کیلئے انسانوں کی رہنمائی کیلئے نبی کریمؐ کے ذریعے دنیا تک پہنچایا گیا۔ یہ نسخہ ک...




لاہور:معروف عالم دین مولانا طارق جمیل بلڈ پریشر کم ہونے کے باعث گھر میں گِر کر زخمی ہوگئے تاہم طبعیت پہلے سے بہت بہتر ہے۔



 مولانا طارق جمیل نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے صحت کاملہ کیلئے دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ دو روز قبل بلڈ پریشر کم ہونے کے سبب گرنے سے چوٹ آئی تھی۔

 اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مولانا عمران بشیر نے اپنے ٹوئٹس میں مولانا طارق جمیل کی طبیعت کے حوالے سے اطلاع دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کی طارق جمیل سے فون پر بات ہوئی ہے، ان کی طبیعت انتہائی ناساز ہے۔



مولونا عمران بشیر نے بتایا کہ مولانا طارق جمیل بلڈپریشر لو ہونے کی وجہ سے گھر میں گرے تھے، گرنے کی وجہ سے 2 گھنٹے تک خون بہا۔

انہوں نے بتایا کہ چہرے پر ہلکی سی چوٹ آئی تھی مگر زیادہ خون بہنے کی وجہ سے طبعیت زیادہ خراب ہوگئی تھی۔



انہوں نے لکھا کہ امت کی ماؤں بہنوں نوجوانوں بزرگوں بچوں سب کی دعائیں اللہ تعالیٰ نے قبول کیں اور اب الحمداللہ طارق جمیل کی طبعیت پہلے سے بہت بہتر ہے۔

 مولانا عمران بشیر کا کہنا تھا کہ مولانا طارق جمیل کا سایہ امت کا سرمایہ ہے، اللہ تعالی مولانا طارق جمیل صاحب کا سایہ ہم سب پر سلامت رکھے۔ (آمین)

لاہور:معروف عالم دین مولانا طارق جمیل بلڈ پریشر کم ہونے کے باعث گھر میں گِر کر زخمی ہوگئے تاہم طبعیت پہلے سے بہت بہتر ہے۔  مو...


ماہ مقدس کی آمد آمد ہے۔

اس سلسلے مٰیں رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی تیاریاں بھی زورو شور سے جاری ہیں جبکہ رمضان المبارک کے چاند کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے بھی اپنی پیشگوئی جاری کردی ہے۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق رمضان المبارک کا چاند جمعرات کے بجائے جمعہ کو نظرآنے کا امکان ہے جبکہ پہلا روزہ ہفتے کو ہوگا۔



جیونیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات کو ملک کے 80 فیصد علاقوں میں مطلع صاف رہنے کا امکان ہے جبکہ صرف شمالی علاقہ جات اور کے پی کے کچھ علاقوں میں بادل ہوسکتے ہیں۔

انسانی آنکھ سے نظرآنے کے لیےچاند کی کم ازکم عمر ساڑھے 19 گھنٹے ہونا ضروری ہے تاہم جمعرات کو رویت ہلال
کمیٹی کے اجلاس کے وقت چاند کی عمرکم ہوگی۔

ذرائع محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کو غروب آفتاب کے وقت چاند کی زیادہ سے زیادہ عمر 12 گھنٹے 15 منٹ تک ہوگی اس لیے اس بات کاامکان کم ہے کہ چاند نظرآجائے۔



دوسری جانب ترجمان وزارت مذہبی امور عمران صدیقی کے مطابق رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس مفتی منیب الرحمان کی زیر صدارت میٹ آفس کراچی میں جمعرات کو طلب کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق اسلام آباد کی زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کوہسار کمپلیکس میں منعقد ہوگا جب کہ تمام زونل کمیٹیوں کے اجلاس صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہوں گے۔

ماہ مقدس کی آمد آمد ہے۔ اس سلسلے مٰیں رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی تیاریاں بھی زورو شور سے جاری ہیں جبکہ رمضان المبارک کے چاند کے حوال...


لاہور )کورونا ایک ایسا مہلک وائرس ہے جس کے تباہی مچا دینے کے بعد درد ناک کہانیاں سامنے آئی ہیں۔رشتہ داروں کو اپنے کسی عزیز، جس کی موت کورونا کے باعث واقع ہوئی ہے, کا آخری دیدار بھی نصیب نہیں ہوتا۔کئی ملکوں میں تو کورونا وائرس کے مریضوں کو جلا دیا جاتا ہے۔کورونا مریضوں کی تدفین کی دردناک ویڈیو سامنے آئی ہیں۔

 https://www.facebook.com/paknews125/videos/239676103843612/ : ویڈیو


اسی طرح ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک بے بس ماں کی چیخوں کو سنا جا سکتا ہے۔جس کا بیٹا کورونا وائرس کے باعث جان کی بازی ہار گیا اور اسے تدفین کے لئے لے کر جایا جا رہا ہے۔




چونکہ کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے افراد کی نماز جنازہ میں رشتے داروں کو شرکت کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی آخری دیدار کی اجازت ہے۔ لہذا جاں بحق ہونے والے مریض کے رشتہ دار دور سے میت کو جاتا دیکھ رہے ہیں۔متوفی کی والدہ بار بار کہہ رہی ہیں کہ " منہ تہ وکھا دیو،تابوت کو زمین پر رکھ کر رسیوں کی مدد سے لے کر جایا جا رہا ہوتا ہے تو یہ دیکھنا بھی ایک ماں سے برداشت نہ ہوا اور وہ کہتی ہے کہ میرے پتر نوں چک کے کھڑو۔سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین نے شدید رنج و غم کا اظہار کیاہے۔ اور کہا ہے کہ اللہ کسی بھی والدین کو یہ دردناک عمل نہ دکھائے۔ساتھ ہی ساتھ لوگوں سے تلقین کی گئی ہے کہ خدارا کورونا وائرس کو سنجیدہ لیں۔

 https://www.facebook.com/paknews125/videos/239676103843612/ : ویڈیو

۔واضح رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے باعث 23 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے اعلان کے صرف دو دن بعد ہی کورونا وائرس نے ایک ہی دن میں 23 زندگیوں کو نگل لیا ہے۔ جس کے بعد کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے والوں کی تعداد 7 ہزار 10 جبکہ 134 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ماہرین کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن میں کیسز میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ جبکہ سحری ، اعتکاف اور افطار کے موقع پر یہ وائرس زیادہ افزائش حاصل کر سکتا ہے۔

 https://www.facebook.com/paknews125/videos/239676103843612/ : ویڈیو

لاہور )کورونا ایک ایسا مہلک وائرس ہے جس کے تباہی مچا دینے کے بعد درد ناک کہانیاں سامنے آئی ہیں۔رشتہ داروں کو اپنے کسی عزیز، جس کی موت کور...


انسانوں میں عام طور پر تین قسم کی صفات یا اوصاف پائے جاتے ہیں۔
حسبی و نسبی یا کسبی یا عطائی۔
حسی و نسبی اوصاف وہ ہوتے ہیں جو انسان کو اپنے والدین اور خاندان کی جانب سے ملتے ہیں۔
 کسبی اوصاف وہ ہوتے ہیں جو انسان اپنی محنت، مجاہدےاور عزم سے پیدا کرتا ہے یا حاصل کرتا ہے۔
عطائی اوصاف اللہ پاک کی جانب سے عطا ہوتے ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عطا ہوتے ہیں، جب کسی شخصیت میں تینوں قسم کے اوصاف جمع ہو جائیں تو وہ عظمت کی بلندیوں کو چھونے لگتی ہے اور اگر حسب، نسب بہترین اور عظیم ترین ہو، تربیت عظیم گود اور اللہ پاک کے محبوب گھرانے میں ہوئی ہو تو وہ خود کسبی اور عطائی اوصاف کا باعث بنتی ہے۔
 اس طرح کی مثالیں عالمی تاریخ میں کم کم ملتی ہیں۔
میں تاریخ کے اوراق چھانتا رہا، دنیا کی نامور اور عظیم شخصیات کا مطالعہ کرتا رہا لیکن سچ یہ ہے کہ مجھے تاریخ میں کوئی بھی خاتون اتنے صبر و شکر، بہادری، تسلیم و رضا، ایثار و وفا، جرأت ِاظہار اور عظمت و کردار کی مالک نہیں ملی جتنی حضرت زینبؓ بنت علی المرتضیٰؓ تھیں۔
 تاریخی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک مثال ہیں، رب تعالیٰ نے انہیں مثال ہی پیدا کیا تھا اور وہ قیامت تک ایک مثال ہی رہیں گی۔
 نہ کسی کو وہ حسب نسب مل سکتا ہے اور نہ ہی اس قدر صبر و شکر اور حوصلہ جو حضرت زینبؓ کو عطا ہوا تھا۔
 سانحہ کربلا نہ ہوتا تو شاید دنیا کو حضرت زینب ؓ کی عظمت کا راز سمجھ میں نہ آتا اور نہ ہی ہمارے سامنے ایک روشن مثال ہوتی، روشن مثال بھی بے مثال۔
 سانحہ کربلا نے حضرت زینبؓ کی شخصیت میں مضمر اوصاف بےنقاب کرکے عالمی تاریخ میں ایک بےمثل، مثال کی شمع روشن کر دی جو تاقیامت انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی اور صبر و شکر، تسلیم و رضا کا درس دیتی رہے گی۔
 ایسا کیوں نہ ہو کہ نبی کریمؐ نے حضرت زینبؓ کو پیدائش کے بعد پہلی دفعہ دیکھا اور بازئوں میں اٹھایا تو فرمایا کہ زینبؓ اپنی نانی حضرت خدیجہؓ سے مشابہت رکھتی ہے۔
حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ دنیا کی عظیم ترین ہستی اور محبوبؐ خدا اپنے نانا سے مشابہہ تھے۔
گویا حضرت امام حسنؓ، حضرت امام حسینؓ اور حضرت زینبؓ تینوں کو اپنے ننھیال سے سب سے زیادہ روحانی وراثت ملی تھی اور پھر حضرت فاطمہؓ کی گود اور مولائے کائنات حضرت علیؓ کی پدرانہ شفقت اور توجہ گویا سونے پہ سہاگے والی بات تھی۔
 حضور نبی کریمؐ نے اپنی پیاری نواسی کا نام بھی اپنی بیٹی زینب ؓ کے نام پر رکھا اور مشابہت اس ہستی سے قرار دی جس کے بارے میں نبی آخر الزمانؐ نے فرمایا تھا ’’خدا کی قسم اس نے مجھے کوئی ایسا مہربان عطا نہیں کیا جیسے خدیجہ ؓ تھیں‘‘کیا جلال ہے ان الفاظ میں اور ہاں یاد رکھو کہ جب اللہ کا نبیؐ قسم اٹھاتا ہے تو کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی دینے اور قسم اٹھانے کے لئے حاضر ہوجاتا ہے۔
اسی لئے مجھے اکثر یہ خیال آتا ہے کہ حضرت خدیجہؓ، حضرت فاطمہؓ زہرہ اور حضرت زینبؓ کی موجودگی میں مسلمان خواتین، خاص طور پر جوان خواتین کو کسی آئیڈئل، کسی مثال اور کسی خاتون کی طرف دیکھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
 ان ہستیوں کو قلب و نگاہ میں رکھیں اور پھر دیکھیں کہ کس طرح رضائے الٰہی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں اور عظمت کی منزلیں طے ہوتی چلی جاتی ہیں۔
ذرا غور کیجئے کہ اس سے عظیم تر کسی کا حسب نسب ہوسکتا ہے؟
 حضرت زینبؓ ہمارے پیارے رسولؐ کی پیاری نواسی، خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرہؓ کی چہیتی بیٹی اور مولائے کائنات حضرت علیؓ کے جگر کا ٹکڑا تھیں۔
پھر وہ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ سردارانِ نوجوانانِ جنت کی نہایت پیاری بہن تھیں۔
سچ یہ ہے کہ مسلمان کا ایمان عشق رسولؐ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
عشق رسولؐ کے بغیرمسلمانی کی منزل نہیں ملتی نہ ہی قلب و نگاہ روشن ہوتے اور باطن منور ہوتا ہے لیکن عشق رسولؐ اہل بیت کی محبت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، جن عظیم اور مقدس ہستیوں کو رسول ؐخدا نے بازئوں میں اٹھا اٹھا کر کہا اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر، علیؓ، حسنؓ ، حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، جس کا میں مولا، اس کا علی مولا ۔
کیا ان ہستیوں ،عظیم ترین ہستیوں، سے محبت کئے بغیر عشق رسولؐ کا سراغ مل سکتا ہے؟
 عشق کی ان شمعوں کو روشن کئے بغیر روحانیت کی منزل کا نشان مل سکتا ہے؟
میں عرض کررہا تھا کہ میں تاریخ عالم چھانتا رہا لیکن مجھے اس سے بڑی صبر و شکر، رضائے الٰہی اور بہادری و جرأت کی مثال نہیں ملی، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دنیا کی عظیم شخصیات بھی اس حوالے سے حضرت زینبؓ کی خاک پا کے بھی قریب نہیں۔
ذرا سوچو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے محبوب رسول ﷺ نبی آخر الزمان کی نواسی، حضورﷺ کی نہایت پیاری بیٹی خاتون جنت حضرت فاطمہؓ کی بیٹی اور مولائے کائنات خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کے جگر کا ٹکڑا میدان کربلا میں اپنے پیارے بھائی حضرت امام حسینؓ اور اپنے دو جگر گوشوں حضرت محمد بن عبداللہؓ اور حضرت عون بن عبداللہؓ کے علاوہ اپنے بھتیجوں، بھانجوں، قریبی عزیزوں کی شہادت کے بعد صحرا کی وحشت اور رات کی تاریکی میں تنہا غموں کا پہاڑ اٹھائے بیٹھتی تھیں لیکن نہ کوئی شکوہ و فریاد، نہ گریہ اور نہ ہی معصوم ہونٹوں پر شکایت۔
 صبر کا دامن مضبوطی سے تھام رکھا تھا، اللہ کی رضا پر اس قدر راضی کہ اپنے رب سے ان قربانیوں کی قبولیت کی دعا میں مصروف تھیں۔
دوسری طرف دشمن کے خیموں میں فتح کا جشن منایا جارہا تھا۔ دشمن نے اہل بیت کی عبادت گزار اور حرم نبویؐ کی عفت مآب بیٹیوں کے سروں سے چادریں بھی اتار لی تھیں اور کانوں سے سونے کی بالیں بھی کھینچ لی تھیں۔ کئی دن سے بھوکی پیاسی حضرت زینبؓ اور بچوں کو یزیدی امیر لشکر عمر بن سعد نے جلا ہوا خیمہ بھیجا تو حضرت زینبؓ نے اسے بچوں پر لگا کر انہیں سلاد دیا اور خود عبادت میں مصروف ہوگئیں۔
قیامت کی اس رات بھی آپ ؓ نے نماز تہجد قضا کی اور نہ ذکر و اذکار میں کمی آنے دی۔
 سبحان اللہ صبر و شکر اور رضائے الٰہی کی انتہا ہے کہ جب اس لٹے پٹے غم کے لہو میں ڈوبے قافلے کو کوفہ کے گورنر عبید اللہ بن ز یاد کے دربار میں لایا گیا تو اس نے حضرت زینبؓ سے پوچھا۔
آپؓ نے اپنے بھائی کے سلسلے میں خدا کے امر کو کیسا پایا ، حضرت زینبؓ نے نہایت اطمینان اور یقین کے ساتھ جواب دیا ’’ہم نے اچھائی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔
 خدا کی طرف سے یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ انہیں مقتول دیکھے اور اب وہ لوگ خدا کی ابدی بارگاہ میں آرام کر رہے ہیں۔‘‘ سبحان اللہ! کیا صبر، شکر اور رضائے الٰہی پر راضی رہنے کی اس سے بڑی مثال دی جاسکتی ہے؟ ہوسکتا ہے میری کم
علمی ہو، لیکن تاریخ عالم میں اس طرح کے صبر و شکر کی مثال موجود ہی نہیں۔ یزید کے دربار میں حضرت زینبؓ کا خطاب جرأت و بہادری اور حق گوئی کی ایک منفرد مثال ہے۔
 سرکاری فوج کے حصار میں جب یہ لٹا پٹا، بھوکا پیاسا، ظلم و ستم کے زخموں سے چور قافلہ یزید کے دربار میں پیش کیا گیا تو حضرت زینبؓ نے حکمت و دانش اور جرأت و بہادری سے یزیدی خرافات کو مسترد کرتے ہوئے کہا’’تم اپنے زعم میں سمجھ رہے ہو کہ کامیابی مل گئی اور اہل بیت سرنگوں ہوگئے مگر حقیقت میں اہل بیت کا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ یزید اور اس کے ساتھیوں نے اپنے آپ کو تباہ و برباد کر لیا ہے۔
‘‘ تاریخ نے حضرت زینبؓ کے الفاظ پر مہر تصدیق ثبت کردی اور واضح کردیا کہ ؎ قتل حسینؓ اصل میں مرگ یزید ہے: ہم صبر اور شکر کی باتیں تو بہت کرتے ہیں، عشق رسولؐ اور حب اہل بیت کے دعوے بھی کرتے ہیں اور حال یہ ہے کہ پائوں میں ذرا سا کانٹا چبھے، کوئی مصیبت یا مشکل آجائے یا غم و صدمہ کا سامنا کرنا پڑے تو صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سےگلے شکوے کرنے شروع کر دیتے ہیں اور آہیں بھر بھر کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔
کسی بدو نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ جہنم کی آگ کس شے سے ٹھنڈی ہوتی ہے؟
 آپؐ نے فرمایا ’’دنیا کی مصیبتوں پر صبر کرنے سے۔‘‘ بدو نے عرض کیا کہ اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
آپؐ نے فرمایا ’’اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو۔‘‘ حضرت زینبؓ کا خیال آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ کیا دنیا کی مصیبتوں پر صبر کی اس سے بڑی مثال مل سکتی ہے؟
 کیا غم کے پہاڑ تلے دب کر صبر و شکر کے ساتھ بھوکے پیاسے بھائی، بیٹوں، بھانجوں، بھتیجوں کے خون شہادت کے باوجود اس قدر کثرت سے ذکر الٰہی کیا جاسکتا ہے؟
 حضرت زینبؓ جنہیں ہمارے پیارے رسولﷺ نے کھجور کے ساتھ اپنے لعابِ دہن سے’’گڑھتی‘‘ دی تھی صرف وہی عظیم ہستی اس قدر صبر و شکر کا مظاہرہ کرسکتی تھی اور صدمات میں ڈوب کر بھی اس قدر ذکر الٰہی کرسکتی تھی۔
ہم ان کی مثال کی شمع سے روشنی کی ایک کرن بھی حاصل کرلیں تو زندگی میں ایک انقلاب آجائے۔
معاشرے میں صبر و شکر کے پھول کھلیں تو ذکر الٰہی کا نور پھیل جائے۔
دوستو! یہ مسلمانی کی پہلی سیڑھی بھی ہے اور عظیم تر منزل بھی۔

انسانوں میں عام طور پر تین قسم کی صفات یا اوصاف پائے جاتے ہیں۔ حسبی و نسبی یا کسبی یا عطائی۔ حسی و نسبی اوصاف وہ ہوتے ہیں جو انسان کو ا...


دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک میں باپ سے بیٹی کی شادی کو انتہائی شرمناک سمجھا جاتا ہے
 اور اس کا شاید کوئی مہذب معاشرہ تصور بھی نہیں کر سکتا مگر اسلامی ملک بنگلہ دیش میں ایک ایسا علاقہ ہے
جہاں رہنے والاقبیلے میں لڑکیوں کی شادی باپ سے زبردستی کروانے کا رواج ہے ۔

بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کے پہاڑی قبیلے ” منڈی “ میں اگر کوئی بیوہ شادی کی خواہش کرے تو اسے اپنے ہی قبیلے یا خاندان کے کسی فرد سے شادی کرنا ہوتی ہے ،بیوہ کو اپنی شادی کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی کا بیاہ بھی دوسرے شوہر سے کروانا ہوتا ہے۔

منڈی قبیلے کا خیال ہے کہ ان کی اس رسم کی وجہ سے قبیلے کی نسل میں اضافہ ہوتا ہے کیوں کہ لڑکی سے ان کی نسل پروان چڑھتی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کی دولت بھی محفوظ ہو جاتی ہے، کیوں کہ اگر بیوہ کا انتقال ہوجاتا ہے تو اس کے بعد اس کی ساری جائیداد کی وارث اس کی بیٹی بن جاتی ہے اور ان کی جائیداد قبیلے یا خاندان سے باہر نہیں جاتی۔



ایک بنگلہ دیشی میگزین نے اس قبیلے کی ایک ایسی ہی لڑکی کا انٹرویو کیا ہے
 جس کی شادی اس کی ماں کی دوسری شادی کے موقع پر اس کے سوتیلے باپ کے ساتھ کر دی تھی اور اس وقت اس کی عمر تین سال تھی۔

 اورلا دلبوت اس وقت 30سال کی ہے اور اس کی اپنی ماں کے دوسرے خاوند اور اپنے سوتیلے باپ سے تین بچے ہیں جن میں بڑے بیٹے کی عمر 14سال ہے
 جبکہ ایک بیٹی 7سال کی جبکہ سب سے چھوٹی لڑکی کی عمر 19ماہ ہے۔



 اورلا اور اس کی ماں متامونی کی محض چند ایکڑ زمین ہے جس پر وہ انناس اور کیلوں کی فصل تیار کر کے اپنی گزر بسر کرتی ہیں۔

 اورلا کے مطابق جب اسے بلوغت پر اپنے سوتیلے باپ کی بیوی ہونے کا انکشاف ہوا تو اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ یہاں سے بھاگ جائے، نوتن کو اپنی ماں کے ساتھ دیکھ کر وہ خوش ہوتی تھی اور دونوں کی سلامتی کیلئے دعا کرتی تھی ، وہ بھی چاہتی تھی کہ نوتن جیسا اس کا بھی شوہر ہو مگر جب اسے یہ پتہ چلا کہ ماں کی شادی کے ساتھ اس کی بھی شادی نوتن سے کر دی گئی ہے
 تو وہ لمحہ اس کیلئے بہت اذیت ناک تھا مگر پھر اس نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔

دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک میں باپ سے بیٹی کی شادی کو انتہائی شرمناک سمجھا جاتا ہے  اور اس کا شاید کوئی مہذب معاشرہ تصور بھی نہیں کر سکتا...




امریکی ریاست فلوریڈا میں تباہی مچانے والے طوفان ارما نے ایک طرف تو بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور لوگوں کی زندگیاں نگل لیں، وہیں ایک اور عجیب و غریب واقعہ بھی دیکھنے میں آیا۔

طوفان ارما نے جزائر کیریبیئن میں بہاماس کے علاقے میں موجود سمندر بالکل خشک کردیا اور سمندر کی تہہ ایک راستے کی صورت نمودار ہوگئی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر و ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بہاماس کے ایک علاقے کا ساحلی مقام بالکل خشک ہے جس میں دور ایک جزیرہ بھی ٹیلے کی مانند نظر آرہا ہے۔

دراصل یہاں طوفان کی شدت سے سمندر کا پانی اڑ گیا ہے اور سمندر کا مذکورہ حصہ خشک دکھائی دے رہا ہے، تاہم طوفان کے گزر جانے کے بعد سمندر اپنی معمول کی حالت پر واپس آگیا۔



ٹوئٹر پر ایک خاتون نے اس بارے میں لکھا، ’یہاں سے سمندر کا پانی لاپتہ ہوگیا‘۔

ماہرین کے مطابق یہ ایک نہایت انوکھا واقعہ تو ضرور ہے لیکن یہ ایک بہت ہی نایاب قدرتی مظہر ہے جو عشروں بلکہ صدیوں میں ایک سے 2 مرتبہ ہی دکھائی دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سمندر میں بننے والے طوفان (ہریکین) میں ہوا کا دباؤ بہت کم ہوتا ہے اور جیسے جیسے اس کے مرکز (آنکھ) کی طرف بڑھتے ہیں ویسے ویسے ہوا کا یہ دباؤ اور بھی کم ہوتا چلا جاتا ہے۔

 کم دباؤ والا حصہ اپنے ارد گرد کی ہوا بڑی تیزی سے کھینچتا ہے جس کے نتیجے میں آس پاس کے علاقوں میں تیز ہوائیں چلتی ہیں۔

 لیکن اگر طوفان بہت زیادہ شدید اور طاقتور ہو تو وہ ہوا کے ساتھ ساتھ سمندر کا پانی بھی اپنے اندر کھینچنے لگتا ہے۔



اگر طوفان کے مرکز سے قریب کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں سمندر کی گہرائی نسبتاً کم ہو تو وقتی طور پر (صرف چند منٹوں یا گھنٹوں کے لیے) اس جگہ کا پانی خشک ہوجاتا ہے کیونکہ طوفان اسے اپنے اندر گویا چوس لیتا ہے
۔طوفان کے گزر جانے یا ختم ہوجانے کے بعد سمندر کا پانی معمول کے مطابق واپس آجاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے قدرتی مناظر ہمیں صرف اس لیے عجیب و غریب یا پراسرار محسوس ہوتے ہیں کیونکہ یہ برسوں اور صدیوں میں ایک یا دو مرتبہ ہی رونما ہوتے ہیں ورنہ یہ قوانین قدرت کے عین مطابق ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا میں ایک ہفتے کے اندر آنے والے 2 سمندری طوفان ہاروے اور ارما بحر اوقیانوس کی تاریخ کے بدترین اور تباہ کن طوفان قرار دیے جارہے ہیں۔

امریکی ریاست فلوریڈا میں تباہی مچانے والے طوفان ارما نے ایک طرف تو بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور لوگوں کی زندگیاں نگل لیں، وہیں ایک ا...


سعودی عرب کا ایک قبرستان ۳۰ سال سے بند پڑا تھا آخر فیصلہ ہوا اب اسکو برابر کر دیا جاے اور گورنمنٹ نے اجازت دے دی اور یہ ایک کمپنی کو اسکا ٹھکہ مل گیا اور کمپنی نے اپنا کام شروع کیا کام کے دوران بوسیدہ ہڈیاں اور بدبو کے علاوہ کچھ نہ تھا کام کے دوران جب ایک جگہ کھودائی کی گی تو وہاں بدبو کے بجاے

خشبو محسوس ہونے لگیمزدوروں نے کمپنی کو خبر دی اور انھوں نے محکمہ اموات کو اور دوسروں ادروں کو خبر دی اور کام روک دیا گیا اور جب سب لوگ جمع ہوگے تو کام دوبارہ شروع کیا گیازمیین کی مٹی انتہا نرم تھی اور اس میں کافور اور مشک کی خشبو ملی ہوی تھی پھر ایک میت ملی جسکا کفن ویسے کا ویسا تھا ریکارڈ چیک کیا گیا تو پتہ چل رہا تھا جیسے آج سے تیس سال پہلے دفن کیا گیا تھا خیر قبر سے نکالا گیا تو مردہ کا چہرہ کھولا گیا تو وہ تروتازہ جیسے ابھی ہی مرا ہوا ہو گاوں کے لوگوں نے پہچانا یہ فلاں کا بیٹا ہے۔



وہ شخص بہت ضعیف تھا چل پھر نہیں سکتا جنازہ اسکے گھر لے جایا گیا۔باپ کو دیدار کرایا گیا اس نے نے شکر کرتے ہوے کہا تیری قدرت تیس سال پہلے جنازہ نکلا اور تیس سال پھر اسی حالت میں گھر لاکر مجھے دیدار کرایا گیا تیری قدرت کا کیا کہنا اور روتا جارہا تھا اوراس منظر نے سب کی انکھیں نم کردی۔

پھر اسکی اجازت سے دوسرے قبرستان میں دفن کیا گیا۔پھر باپ سے پوچھا گیا تیرے بیٹے کے وہ کونسے عمل تھے ؟

باپ نے جواب دیا میرا بیٹا الله سے بہت محبت کرتا تھا پہلی صفت میں نماز پڑھتا تھا کبھی ایسی صبع نہ گزری تھی جب میں نے فجر کی آواز دی اور میں نے اسکو جاگا ہوا نہ پایا کبھی کبھی تو وہ اذان سے پہلے ہی مسجد چلا جاتا تھا کوئی نماز قضاء نہیں کرتا تھااور تو مجھے کچھ پتہ نہیں ہے۔



وہ کچھ کرتا ہو۔قران میں الله نے فرمایا جو الله سے محبت کرتا ہے الله بھی ان سے محبت کرتا ہے۔

اور الله نے بتایا اے بندے میں نے تیری محبت کو قبول کیا تجھ کو کیڑوں کی خوار اک نہیں بنایا۔

نماز تو ہم سے بہت لوگ پڑتے ہونگے مگر نماز کا اہتمام بہت کم لوگ کرتے ہیں۔

محبت تو ہم سب کرتے ہیں مگر محبت کا ثبوت بہت کم لوگ دیتے ہونگے

سعودی عرب کا ایک قبرستان ۳۰ سال سے بند پڑا تھا آخر فیصلہ ہوا اب اسکو برابر کر دیا جاے اور گورنمنٹ نے اجازت دے دی اور یہ ایک کمپنی کو اسکا...



ایرانی نژاد ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر مہران کیشے نے اپنی ایک حالیہ تحقیق کے بعد خوفناک انکشاف کیا ہے کہ مستقبل قریب میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ آنے والا ہے جس کے نتیجے میں تقریباً چار کروڑ افراد لقمہ اجل بن جائیں گے ۔

خبر کے مطابق ڈاکٹر کیشے کا کہنا ہے کہ یہ زلزلہ براعظم ایشیاءاور امریکہ کو نشانہ بنائے گا جس کے نتیجے میں شمالی اور جنوبی امریکہ کی براعظمی پلیٹیس ٹکڑوں میں بٹ جائیں گی اور ان براعظموں میں واقع ممالک تباہ وبرباد ہوجائیں گے ڈاکٹر کیشے کہتے ہیں کہ ریکٹر اسکیل پر 6 اور 8.3 شدت کے زلزلے محض ایک ابتدا ہونگے اور آنے والے موسم خزاں سے پہلے سب سے بڑا زلزلہ آسکتاہے جو اس قدر تباہی کرے گا کہ اسے سب سے بڑی تباہی قرار دیا جاسکتاہے ۔



ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں مین دس سے 6 شدت کے زلزلے آئیں گے اور بعض ممالک میں تو ان کی شدت 20 سے 24 تک ہوگی ۔
یہ زلزلے زمین کے جنوبی نصف کرہ کو صفحہ ہستی سے مٹاسکتے ہیں ۔
ڈاکٹر کیشے کا یہ بھی کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں چین اور جاپان سب سے پہلے زلزلے کا نشانہ بن سکتے ہیں ۔



ایرانی ماہریان کا کہنا ہے کہ عالمی پیمانے پر آنے والے ان زلزلوں کے نتیجے میں دنیا کی معیشت تباہ ہوجائے گی اور عالمی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ جائیگا گویا ایک طرح سے دنیا خاتمے کے قریب پہنچ جائے گی ۔

ایرانی نژاد ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر مہران کیشے نے اپنی ایک حالیہ تحقیق کے بعد خوفناک انکشاف کیا ہے کہ مستقبل قریب میں انسانی تاریخ کا سب ...