Showing posts with label Special Posts. Show all posts




لاہور:معروف عالم دین مولانا طارق جمیل بلڈ پریشر کم ہونے کے باعث گھر میں گِر کر زخمی ہوگئے تاہم طبعیت پہلے سے بہت بہتر ہے۔



 مولانا طارق جمیل نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے صحت کاملہ کیلئے دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ دو روز قبل بلڈ پریشر کم ہونے کے سبب گرنے سے چوٹ آئی تھی۔

 اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مولانا عمران بشیر نے اپنے ٹوئٹس میں مولانا طارق جمیل کی طبیعت کے حوالے سے اطلاع دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کی طارق جمیل سے فون پر بات ہوئی ہے، ان کی طبیعت انتہائی ناساز ہے۔



مولونا عمران بشیر نے بتایا کہ مولانا طارق جمیل بلڈپریشر لو ہونے کی وجہ سے گھر میں گرے تھے، گرنے کی وجہ سے 2 گھنٹے تک خون بہا۔

انہوں نے بتایا کہ چہرے پر ہلکی سی چوٹ آئی تھی مگر زیادہ خون بہنے کی وجہ سے طبعیت زیادہ خراب ہوگئی تھی۔



انہوں نے لکھا کہ امت کی ماؤں بہنوں نوجوانوں بزرگوں بچوں سب کی دعائیں اللہ تعالیٰ نے قبول کیں اور اب الحمداللہ طارق جمیل کی طبعیت پہلے سے بہت بہتر ہے۔

 مولانا عمران بشیر کا کہنا تھا کہ مولانا طارق جمیل کا سایہ امت کا سرمایہ ہے، اللہ تعالی مولانا طارق جمیل صاحب کا سایہ ہم سب پر سلامت رکھے۔ (آمین)

لاہور:معروف عالم دین مولانا طارق جمیل بلڈ پریشر کم ہونے کے باعث گھر میں گِر کر زخمی ہوگئے تاہم طبعیت پہلے سے بہت بہتر ہے۔  مو...


ماہ مقدس کی آمد آمد ہے۔

اس سلسلے مٰیں رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی تیاریاں بھی زورو شور سے جاری ہیں جبکہ رمضان المبارک کے چاند کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے بھی اپنی پیشگوئی جاری کردی ہے۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق رمضان المبارک کا چاند جمعرات کے بجائے جمعہ کو نظرآنے کا امکان ہے جبکہ پہلا روزہ ہفتے کو ہوگا۔



جیونیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات کو ملک کے 80 فیصد علاقوں میں مطلع صاف رہنے کا امکان ہے جبکہ صرف شمالی علاقہ جات اور کے پی کے کچھ علاقوں میں بادل ہوسکتے ہیں۔

انسانی آنکھ سے نظرآنے کے لیےچاند کی کم ازکم عمر ساڑھے 19 گھنٹے ہونا ضروری ہے تاہم جمعرات کو رویت ہلال
کمیٹی کے اجلاس کے وقت چاند کی عمرکم ہوگی۔

ذرائع محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کو غروب آفتاب کے وقت چاند کی زیادہ سے زیادہ عمر 12 گھنٹے 15 منٹ تک ہوگی اس لیے اس بات کاامکان کم ہے کہ چاند نظرآجائے۔



دوسری جانب ترجمان وزارت مذہبی امور عمران صدیقی کے مطابق رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس مفتی منیب الرحمان کی زیر صدارت میٹ آفس کراچی میں جمعرات کو طلب کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق اسلام آباد کی زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کوہسار کمپلیکس میں منعقد ہوگا جب کہ تمام زونل کمیٹیوں کے اجلاس صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہوں گے۔

ماہ مقدس کی آمد آمد ہے۔ اس سلسلے مٰیں رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی تیاریاں بھی زورو شور سے جاری ہیں جبکہ رمضان المبارک کے چاند کے حوال...


لاہور )کورونا ایک ایسا مہلک وائرس ہے جس کے تباہی مچا دینے کے بعد درد ناک کہانیاں سامنے آئی ہیں۔رشتہ داروں کو اپنے کسی عزیز، جس کی موت کورونا کے باعث واقع ہوئی ہے, کا آخری دیدار بھی نصیب نہیں ہوتا۔کئی ملکوں میں تو کورونا وائرس کے مریضوں کو جلا دیا جاتا ہے۔کورونا مریضوں کی تدفین کی دردناک ویڈیو سامنے آئی ہیں۔

 https://www.facebook.com/paknews125/videos/239676103843612/ : ویڈیو


اسی طرح ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک بے بس ماں کی چیخوں کو سنا جا سکتا ہے۔جس کا بیٹا کورونا وائرس کے باعث جان کی بازی ہار گیا اور اسے تدفین کے لئے لے کر جایا جا رہا ہے۔




چونکہ کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے افراد کی نماز جنازہ میں رشتے داروں کو شرکت کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی آخری دیدار کی اجازت ہے۔ لہذا جاں بحق ہونے والے مریض کے رشتہ دار دور سے میت کو جاتا دیکھ رہے ہیں۔متوفی کی والدہ بار بار کہہ رہی ہیں کہ " منہ تہ وکھا دیو،تابوت کو زمین پر رکھ کر رسیوں کی مدد سے لے کر جایا جا رہا ہوتا ہے تو یہ دیکھنا بھی ایک ماں سے برداشت نہ ہوا اور وہ کہتی ہے کہ میرے پتر نوں چک کے کھڑو۔سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین نے شدید رنج و غم کا اظہار کیاہے۔ اور کہا ہے کہ اللہ کسی بھی والدین کو یہ دردناک عمل نہ دکھائے۔ساتھ ہی ساتھ لوگوں سے تلقین کی گئی ہے کہ خدارا کورونا وائرس کو سنجیدہ لیں۔

 https://www.facebook.com/paknews125/videos/239676103843612/ : ویڈیو

۔واضح رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے باعث 23 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے اعلان کے صرف دو دن بعد ہی کورونا وائرس نے ایک ہی دن میں 23 زندگیوں کو نگل لیا ہے۔ جس کے بعد کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے والوں کی تعداد 7 ہزار 10 جبکہ 134 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ماہرین کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن میں کیسز میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ جبکہ سحری ، اعتکاف اور افطار کے موقع پر یہ وائرس زیادہ افزائش حاصل کر سکتا ہے۔

 https://www.facebook.com/paknews125/videos/239676103843612/ : ویڈیو

لاہور )کورونا ایک ایسا مہلک وائرس ہے جس کے تباہی مچا دینے کے بعد درد ناک کہانیاں سامنے آئی ہیں۔رشتہ داروں کو اپنے کسی عزیز، جس کی موت کور...


انسانوں میں عام طور پر تین قسم کی صفات یا اوصاف پائے جاتے ہیں۔
حسبی و نسبی یا کسبی یا عطائی۔
حسی و نسبی اوصاف وہ ہوتے ہیں جو انسان کو اپنے والدین اور خاندان کی جانب سے ملتے ہیں۔
 کسبی اوصاف وہ ہوتے ہیں جو انسان اپنی محنت، مجاہدےاور عزم سے پیدا کرتا ہے یا حاصل کرتا ہے۔
عطائی اوصاف اللہ پاک کی جانب سے عطا ہوتے ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عطا ہوتے ہیں، جب کسی شخصیت میں تینوں قسم کے اوصاف جمع ہو جائیں تو وہ عظمت کی بلندیوں کو چھونے لگتی ہے اور اگر حسب، نسب بہترین اور عظیم ترین ہو، تربیت عظیم گود اور اللہ پاک کے محبوب گھرانے میں ہوئی ہو تو وہ خود کسبی اور عطائی اوصاف کا باعث بنتی ہے۔
 اس طرح کی مثالیں عالمی تاریخ میں کم کم ملتی ہیں۔
میں تاریخ کے اوراق چھانتا رہا، دنیا کی نامور اور عظیم شخصیات کا مطالعہ کرتا رہا لیکن سچ یہ ہے کہ مجھے تاریخ میں کوئی بھی خاتون اتنے صبر و شکر، بہادری، تسلیم و رضا، ایثار و وفا، جرأت ِاظہار اور عظمت و کردار کی مالک نہیں ملی جتنی حضرت زینبؓ بنت علی المرتضیٰؓ تھیں۔
 تاریخی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک مثال ہیں، رب تعالیٰ نے انہیں مثال ہی پیدا کیا تھا اور وہ قیامت تک ایک مثال ہی رہیں گی۔
 نہ کسی کو وہ حسب نسب مل سکتا ہے اور نہ ہی اس قدر صبر و شکر اور حوصلہ جو حضرت زینبؓ کو عطا ہوا تھا۔
 سانحہ کربلا نہ ہوتا تو شاید دنیا کو حضرت زینب ؓ کی عظمت کا راز سمجھ میں نہ آتا اور نہ ہی ہمارے سامنے ایک روشن مثال ہوتی، روشن مثال بھی بے مثال۔
 سانحہ کربلا نے حضرت زینبؓ کی شخصیت میں مضمر اوصاف بےنقاب کرکے عالمی تاریخ میں ایک بےمثل، مثال کی شمع روشن کر دی جو تاقیامت انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی اور صبر و شکر، تسلیم و رضا کا درس دیتی رہے گی۔
 ایسا کیوں نہ ہو کہ نبی کریمؐ نے حضرت زینبؓ کو پیدائش کے بعد پہلی دفعہ دیکھا اور بازئوں میں اٹھایا تو فرمایا کہ زینبؓ اپنی نانی حضرت خدیجہؓ سے مشابہت رکھتی ہے۔
حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ دنیا کی عظیم ترین ہستی اور محبوبؐ خدا اپنے نانا سے مشابہہ تھے۔
گویا حضرت امام حسنؓ، حضرت امام حسینؓ اور حضرت زینبؓ تینوں کو اپنے ننھیال سے سب سے زیادہ روحانی وراثت ملی تھی اور پھر حضرت فاطمہؓ کی گود اور مولائے کائنات حضرت علیؓ کی پدرانہ شفقت اور توجہ گویا سونے پہ سہاگے والی بات تھی۔
 حضور نبی کریمؐ نے اپنی پیاری نواسی کا نام بھی اپنی بیٹی زینب ؓ کے نام پر رکھا اور مشابہت اس ہستی سے قرار دی جس کے بارے میں نبی آخر الزمانؐ نے فرمایا تھا ’’خدا کی قسم اس نے مجھے کوئی ایسا مہربان عطا نہیں کیا جیسے خدیجہ ؓ تھیں‘‘کیا جلال ہے ان الفاظ میں اور ہاں یاد رکھو کہ جب اللہ کا نبیؐ قسم اٹھاتا ہے تو کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی دینے اور قسم اٹھانے کے لئے حاضر ہوجاتا ہے۔
اسی لئے مجھے اکثر یہ خیال آتا ہے کہ حضرت خدیجہؓ، حضرت فاطمہؓ زہرہ اور حضرت زینبؓ کی موجودگی میں مسلمان خواتین، خاص طور پر جوان خواتین کو کسی آئیڈئل، کسی مثال اور کسی خاتون کی طرف دیکھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
 ان ہستیوں کو قلب و نگاہ میں رکھیں اور پھر دیکھیں کہ کس طرح رضائے الٰہی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں اور عظمت کی منزلیں طے ہوتی چلی جاتی ہیں۔
ذرا غور کیجئے کہ اس سے عظیم تر کسی کا حسب نسب ہوسکتا ہے؟
 حضرت زینبؓ ہمارے پیارے رسولؐ کی پیاری نواسی، خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرہؓ کی چہیتی بیٹی اور مولائے کائنات حضرت علیؓ کے جگر کا ٹکڑا تھیں۔
پھر وہ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ سردارانِ نوجوانانِ جنت کی نہایت پیاری بہن تھیں۔
سچ یہ ہے کہ مسلمان کا ایمان عشق رسولؐ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
عشق رسولؐ کے بغیرمسلمانی کی منزل نہیں ملتی نہ ہی قلب و نگاہ روشن ہوتے اور باطن منور ہوتا ہے لیکن عشق رسولؐ اہل بیت کی محبت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، جن عظیم اور مقدس ہستیوں کو رسول ؐخدا نے بازئوں میں اٹھا اٹھا کر کہا اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر، علیؓ، حسنؓ ، حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، جس کا میں مولا، اس کا علی مولا ۔
کیا ان ہستیوں ،عظیم ترین ہستیوں، سے محبت کئے بغیر عشق رسولؐ کا سراغ مل سکتا ہے؟
 عشق کی ان شمعوں کو روشن کئے بغیر روحانیت کی منزل کا نشان مل سکتا ہے؟
میں عرض کررہا تھا کہ میں تاریخ عالم چھانتا رہا لیکن مجھے اس سے بڑی صبر و شکر، رضائے الٰہی اور بہادری و جرأت کی مثال نہیں ملی، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دنیا کی عظیم شخصیات بھی اس حوالے سے حضرت زینبؓ کی خاک پا کے بھی قریب نہیں۔
ذرا سوچو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے محبوب رسول ﷺ نبی آخر الزمان کی نواسی، حضورﷺ کی نہایت پیاری بیٹی خاتون جنت حضرت فاطمہؓ کی بیٹی اور مولائے کائنات خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کے جگر کا ٹکڑا میدان کربلا میں اپنے پیارے بھائی حضرت امام حسینؓ اور اپنے دو جگر گوشوں حضرت محمد بن عبداللہؓ اور حضرت عون بن عبداللہؓ کے علاوہ اپنے بھتیجوں، بھانجوں، قریبی عزیزوں کی شہادت کے بعد صحرا کی وحشت اور رات کی تاریکی میں تنہا غموں کا پہاڑ اٹھائے بیٹھتی تھیں لیکن نہ کوئی شکوہ و فریاد، نہ گریہ اور نہ ہی معصوم ہونٹوں پر شکایت۔
 صبر کا دامن مضبوطی سے تھام رکھا تھا، اللہ کی رضا پر اس قدر راضی کہ اپنے رب سے ان قربانیوں کی قبولیت کی دعا میں مصروف تھیں۔
دوسری طرف دشمن کے خیموں میں فتح کا جشن منایا جارہا تھا۔ دشمن نے اہل بیت کی عبادت گزار اور حرم نبویؐ کی عفت مآب بیٹیوں کے سروں سے چادریں بھی اتار لی تھیں اور کانوں سے سونے کی بالیں بھی کھینچ لی تھیں۔ کئی دن سے بھوکی پیاسی حضرت زینبؓ اور بچوں کو یزیدی امیر لشکر عمر بن سعد نے جلا ہوا خیمہ بھیجا تو حضرت زینبؓ نے اسے بچوں پر لگا کر انہیں سلاد دیا اور خود عبادت میں مصروف ہوگئیں۔
قیامت کی اس رات بھی آپ ؓ نے نماز تہجد قضا کی اور نہ ذکر و اذکار میں کمی آنے دی۔
 سبحان اللہ صبر و شکر اور رضائے الٰہی کی انتہا ہے کہ جب اس لٹے پٹے غم کے لہو میں ڈوبے قافلے کو کوفہ کے گورنر عبید اللہ بن ز یاد کے دربار میں لایا گیا تو اس نے حضرت زینبؓ سے پوچھا۔
آپؓ نے اپنے بھائی کے سلسلے میں خدا کے امر کو کیسا پایا ، حضرت زینبؓ نے نہایت اطمینان اور یقین کے ساتھ جواب دیا ’’ہم نے اچھائی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔
 خدا کی طرف سے یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ انہیں مقتول دیکھے اور اب وہ لوگ خدا کی ابدی بارگاہ میں آرام کر رہے ہیں۔‘‘ سبحان اللہ! کیا صبر، شکر اور رضائے الٰہی پر راضی رہنے کی اس سے بڑی مثال دی جاسکتی ہے؟ ہوسکتا ہے میری کم
علمی ہو، لیکن تاریخ عالم میں اس طرح کے صبر و شکر کی مثال موجود ہی نہیں۔ یزید کے دربار میں حضرت زینبؓ کا خطاب جرأت و بہادری اور حق گوئی کی ایک منفرد مثال ہے۔
 سرکاری فوج کے حصار میں جب یہ لٹا پٹا، بھوکا پیاسا، ظلم و ستم کے زخموں سے چور قافلہ یزید کے دربار میں پیش کیا گیا تو حضرت زینبؓ نے حکمت و دانش اور جرأت و بہادری سے یزیدی خرافات کو مسترد کرتے ہوئے کہا’’تم اپنے زعم میں سمجھ رہے ہو کہ کامیابی مل گئی اور اہل بیت سرنگوں ہوگئے مگر حقیقت میں اہل بیت کا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ یزید اور اس کے ساتھیوں نے اپنے آپ کو تباہ و برباد کر لیا ہے۔
‘‘ تاریخ نے حضرت زینبؓ کے الفاظ پر مہر تصدیق ثبت کردی اور واضح کردیا کہ ؎ قتل حسینؓ اصل میں مرگ یزید ہے: ہم صبر اور شکر کی باتیں تو بہت کرتے ہیں، عشق رسولؐ اور حب اہل بیت کے دعوے بھی کرتے ہیں اور حال یہ ہے کہ پائوں میں ذرا سا کانٹا چبھے، کوئی مصیبت یا مشکل آجائے یا غم و صدمہ کا سامنا کرنا پڑے تو صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سےگلے شکوے کرنے شروع کر دیتے ہیں اور آہیں بھر بھر کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔
کسی بدو نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ جہنم کی آگ کس شے سے ٹھنڈی ہوتی ہے؟
 آپؐ نے فرمایا ’’دنیا کی مصیبتوں پر صبر کرنے سے۔‘‘ بدو نے عرض کیا کہ اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
آپؐ نے فرمایا ’’اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو۔‘‘ حضرت زینبؓ کا خیال آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ کیا دنیا کی مصیبتوں پر صبر کی اس سے بڑی مثال مل سکتی ہے؟
 کیا غم کے پہاڑ تلے دب کر صبر و شکر کے ساتھ بھوکے پیاسے بھائی، بیٹوں، بھانجوں، بھتیجوں کے خون شہادت کے باوجود اس قدر کثرت سے ذکر الٰہی کیا جاسکتا ہے؟
 حضرت زینبؓ جنہیں ہمارے پیارے رسولﷺ نے کھجور کے ساتھ اپنے لعابِ دہن سے’’گڑھتی‘‘ دی تھی صرف وہی عظیم ہستی اس قدر صبر و شکر کا مظاہرہ کرسکتی تھی اور صدمات میں ڈوب کر بھی اس قدر ذکر الٰہی کرسکتی تھی۔
ہم ان کی مثال کی شمع سے روشنی کی ایک کرن بھی حاصل کرلیں تو زندگی میں ایک انقلاب آجائے۔
معاشرے میں صبر و شکر کے پھول کھلیں تو ذکر الٰہی کا نور پھیل جائے۔
دوستو! یہ مسلمانی کی پہلی سیڑھی بھی ہے اور عظیم تر منزل بھی۔

انسانوں میں عام طور پر تین قسم کی صفات یا اوصاف پائے جاتے ہیں۔ حسبی و نسبی یا کسبی یا عطائی۔ حسی و نسبی اوصاف وہ ہوتے ہیں جو انسان کو ا...


دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک میں باپ سے بیٹی کی شادی کو انتہائی شرمناک سمجھا جاتا ہے
 اور اس کا شاید کوئی مہذب معاشرہ تصور بھی نہیں کر سکتا مگر اسلامی ملک بنگلہ دیش میں ایک ایسا علاقہ ہے
جہاں رہنے والاقبیلے میں لڑکیوں کی شادی باپ سے زبردستی کروانے کا رواج ہے ۔

بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کے پہاڑی قبیلے ” منڈی “ میں اگر کوئی بیوہ شادی کی خواہش کرے تو اسے اپنے ہی قبیلے یا خاندان کے کسی فرد سے شادی کرنا ہوتی ہے ،بیوہ کو اپنی شادی کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی کا بیاہ بھی دوسرے شوہر سے کروانا ہوتا ہے۔

منڈی قبیلے کا خیال ہے کہ ان کی اس رسم کی وجہ سے قبیلے کی نسل میں اضافہ ہوتا ہے کیوں کہ لڑکی سے ان کی نسل پروان چڑھتی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کی دولت بھی محفوظ ہو جاتی ہے، کیوں کہ اگر بیوہ کا انتقال ہوجاتا ہے تو اس کے بعد اس کی ساری جائیداد کی وارث اس کی بیٹی بن جاتی ہے اور ان کی جائیداد قبیلے یا خاندان سے باہر نہیں جاتی۔



ایک بنگلہ دیشی میگزین نے اس قبیلے کی ایک ایسی ہی لڑکی کا انٹرویو کیا ہے
 جس کی شادی اس کی ماں کی دوسری شادی کے موقع پر اس کے سوتیلے باپ کے ساتھ کر دی تھی اور اس وقت اس کی عمر تین سال تھی۔

 اورلا دلبوت اس وقت 30سال کی ہے اور اس کی اپنی ماں کے دوسرے خاوند اور اپنے سوتیلے باپ سے تین بچے ہیں جن میں بڑے بیٹے کی عمر 14سال ہے
 جبکہ ایک بیٹی 7سال کی جبکہ سب سے چھوٹی لڑکی کی عمر 19ماہ ہے۔



 اورلا اور اس کی ماں متامونی کی محض چند ایکڑ زمین ہے جس پر وہ انناس اور کیلوں کی فصل تیار کر کے اپنی گزر بسر کرتی ہیں۔

 اورلا کے مطابق جب اسے بلوغت پر اپنے سوتیلے باپ کی بیوی ہونے کا انکشاف ہوا تو اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ یہاں سے بھاگ جائے، نوتن کو اپنی ماں کے ساتھ دیکھ کر وہ خوش ہوتی تھی اور دونوں کی سلامتی کیلئے دعا کرتی تھی ، وہ بھی چاہتی تھی کہ نوتن جیسا اس کا بھی شوہر ہو مگر جب اسے یہ پتہ چلا کہ ماں کی شادی کے ساتھ اس کی بھی شادی نوتن سے کر دی گئی ہے
 تو وہ لمحہ اس کیلئے بہت اذیت ناک تھا مگر پھر اس نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔

دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک میں باپ سے بیٹی کی شادی کو انتہائی شرمناک سمجھا جاتا ہے  اور اس کا شاید کوئی مہذب معاشرہ تصور بھی نہیں کر سکتا...




امریکی ریاست فلوریڈا میں تباہی مچانے والے طوفان ارما نے ایک طرف تو بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور لوگوں کی زندگیاں نگل لیں، وہیں ایک اور عجیب و غریب واقعہ بھی دیکھنے میں آیا۔

طوفان ارما نے جزائر کیریبیئن میں بہاماس کے علاقے میں موجود سمندر بالکل خشک کردیا اور سمندر کی تہہ ایک راستے کی صورت نمودار ہوگئی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر و ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بہاماس کے ایک علاقے کا ساحلی مقام بالکل خشک ہے جس میں دور ایک جزیرہ بھی ٹیلے کی مانند نظر آرہا ہے۔

دراصل یہاں طوفان کی شدت سے سمندر کا پانی اڑ گیا ہے اور سمندر کا مذکورہ حصہ خشک دکھائی دے رہا ہے، تاہم طوفان کے گزر جانے کے بعد سمندر اپنی معمول کی حالت پر واپس آگیا۔



ٹوئٹر پر ایک خاتون نے اس بارے میں لکھا، ’یہاں سے سمندر کا پانی لاپتہ ہوگیا‘۔

ماہرین کے مطابق یہ ایک نہایت انوکھا واقعہ تو ضرور ہے لیکن یہ ایک بہت ہی نایاب قدرتی مظہر ہے جو عشروں بلکہ صدیوں میں ایک سے 2 مرتبہ ہی دکھائی دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سمندر میں بننے والے طوفان (ہریکین) میں ہوا کا دباؤ بہت کم ہوتا ہے اور جیسے جیسے اس کے مرکز (آنکھ) کی طرف بڑھتے ہیں ویسے ویسے ہوا کا یہ دباؤ اور بھی کم ہوتا چلا جاتا ہے۔

 کم دباؤ والا حصہ اپنے ارد گرد کی ہوا بڑی تیزی سے کھینچتا ہے جس کے نتیجے میں آس پاس کے علاقوں میں تیز ہوائیں چلتی ہیں۔

 لیکن اگر طوفان بہت زیادہ شدید اور طاقتور ہو تو وہ ہوا کے ساتھ ساتھ سمندر کا پانی بھی اپنے اندر کھینچنے لگتا ہے۔



اگر طوفان کے مرکز سے قریب کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں سمندر کی گہرائی نسبتاً کم ہو تو وقتی طور پر (صرف چند منٹوں یا گھنٹوں کے لیے) اس جگہ کا پانی خشک ہوجاتا ہے کیونکہ طوفان اسے اپنے اندر گویا چوس لیتا ہے
۔طوفان کے گزر جانے یا ختم ہوجانے کے بعد سمندر کا پانی معمول کے مطابق واپس آجاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے قدرتی مناظر ہمیں صرف اس لیے عجیب و غریب یا پراسرار محسوس ہوتے ہیں کیونکہ یہ برسوں اور صدیوں میں ایک یا دو مرتبہ ہی رونما ہوتے ہیں ورنہ یہ قوانین قدرت کے عین مطابق ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا میں ایک ہفتے کے اندر آنے والے 2 سمندری طوفان ہاروے اور ارما بحر اوقیانوس کی تاریخ کے بدترین اور تباہ کن طوفان قرار دیے جارہے ہیں۔

امریکی ریاست فلوریڈا میں تباہی مچانے والے طوفان ارما نے ایک طرف تو بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور لوگوں کی زندگیاں نگل لیں، وہیں ایک ا...



ایرانی نژاد ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر مہران کیشے نے اپنی ایک حالیہ تحقیق کے بعد خوفناک انکشاف کیا ہے کہ مستقبل قریب میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ آنے والا ہے جس کے نتیجے میں تقریباً چار کروڑ افراد لقمہ اجل بن جائیں گے ۔

خبر کے مطابق ڈاکٹر کیشے کا کہنا ہے کہ یہ زلزلہ براعظم ایشیاءاور امریکہ کو نشانہ بنائے گا جس کے نتیجے میں شمالی اور جنوبی امریکہ کی براعظمی پلیٹیس ٹکڑوں میں بٹ جائیں گی اور ان براعظموں میں واقع ممالک تباہ وبرباد ہوجائیں گے ڈاکٹر کیشے کہتے ہیں کہ ریکٹر اسکیل پر 6 اور 8.3 شدت کے زلزلے محض ایک ابتدا ہونگے اور آنے والے موسم خزاں سے پہلے سب سے بڑا زلزلہ آسکتاہے جو اس قدر تباہی کرے گا کہ اسے سب سے بڑی تباہی قرار دیا جاسکتاہے ۔



ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں مین دس سے 6 شدت کے زلزلے آئیں گے اور بعض ممالک میں تو ان کی شدت 20 سے 24 تک ہوگی ۔
یہ زلزلے زمین کے جنوبی نصف کرہ کو صفحہ ہستی سے مٹاسکتے ہیں ۔
ڈاکٹر کیشے کا یہ بھی کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں چین اور جاپان سب سے پہلے زلزلے کا نشانہ بن سکتے ہیں ۔



ایرانی ماہریان کا کہنا ہے کہ عالمی پیمانے پر آنے والے ان زلزلوں کے نتیجے میں دنیا کی معیشت تباہ ہوجائے گی اور عالمی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ جائیگا گویا ایک طرح سے دنیا خاتمے کے قریب پہنچ جائے گی ۔

ایرانی نژاد ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر مہران کیشے نے اپنی ایک حالیہ تحقیق کے بعد خوفناک انکشاف کیا ہے کہ مستقبل قریب میں انسانی تاریخ کا سب ...



سیاست بھی بڑی عجیب و غریب شے ہے ۔

کب دوستی دشمنی میں بدل جائے اور کب دشمنی دوستی میں، کچھ پتہ نہیں لگتا ۔2نومبر اسلام آباد لاک ڈائون کی کال پر عمران کے جیالے اسلام آباد امڈے چلے آئے ۔

بنی گالہ پہنچنے کی کوحتی المقدور کوششیں جاری رہیں

یہاں تک وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اپنی مقررہ وقت پر جائے وزارت سے اٹھے اور جیالوں کا قافلہ لے کر اسلام آباد کے راستے ہو لئے ۔

قافلے کی راہ میں پہلی بڑی اور  آخری رکاوٹ بھی برہان انٹر چینج پر اٹک پل تھا جہاں ایک طرح سے وفاق اور کے پی کے حکومت ایک دوسرے کیخلاف مورچہ زن ہوئیں ۔



لمحہ بہ لمحہ تمام صورتحال کو عوام کے سامنے لانے والے میڈیا چینلز کے مطابق ایک طرف سے شیلنگ ہوئی تو دوسری طرف سے پتھروں کی بارش اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب سالوں پرانی دوستی کا اختتام ہوا۔ یہ دوستی تھی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کی ۔

اس دوستی کا علم شاید پاکستان کی بیشتر عوام کو نہ ہو تاہم لاہور سے تعلق رکھنے والی معروف سماجی شخصیت یوسف صلاح الدین نے اپنے فیس بک پیج پر ایک نایاب تصویر شیئرکی جس میں آج کے سخت سیاسی حریف ، بہترین دوستوں کی طرح دکھائی دے رہے ہیں۔

،یوسف صلاح الدین نے اپنی پوسٹ میں جو تصویر شیئر کی ہے کہ  وہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی شادی کی ہے

اس موقع پر پرویز خٹک کی بائیں جانب موجودہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی موجود ہیں۔



آج بے شک دونوں شخصیات کے درمیان کے درمیان بے پناہ سیاسی مخالفت نظر آتی  ہے

مگر شادی کی پر مسرت تقریب کی گروپ فوٹو واضح طور پر یہ بتا رہی ہے

کہ پرویز خٹک اور چوہدری نثار میں کبھی بہترین دوستی ہوا کرتی تھی۔

تو یہ سیاست واقعی بڑی عجیب و غریب شے ہے ۔

کب دوستی دشمنی میں بدل جائے اور کب دشمنی دوستی میں ،کچھ پتہ نہیں لگتا ۔

سیاست بھی بڑی عجیب و غریب شے ہے ۔ کب دوستی دشمنی میں بدل جائے اور کب دشمنی دوستی میں، کچھ پتہ نہیں لگتا ۔2نومبر اسلام آباد لاک ڈائون ...



ایسی بہت سی باتیں یا عادتیں ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے

کہ اگر وہ کسی شخص میں پائی جائیں تو وہ زندگی میں کبھی امیر نہیں ہوسکتا ۔

ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔1. اگرآپ بچت پر تو بہت زور دیتے ہیں

مگر کمائی پر توجہ نہیں

تو آپ کبھی امیر نہیں ہونگے ۔ 2. اگرآپ نے ابھی تک سرمایہ کاری شروع نہیں

کی تو بھیآپ کبھی امیر نہیں



ہونگے۔3. اوسط درجے کے افراد پہلے سے مقرر شدہ تنخواہ پر کام کرنا پسند کرتے ہیں

جبکہ امیر ہونے کے خواہش مند نتائج کے حساب سے اپنی تنخواہ طے کرتے ہیں۔4. اگر آپ ایسی اشیاء خریدتے ہیں

،جن کی آپ میں استطاعت نہیں تو آپ کبھی امیر نہیں ہو سکتے ۔5. اگر آپ کو امیر ہونا ہے تو اپنے کام سے محبت کریں

دوسروں کے خواب پورا کرنے میں لگے رہے تو آپ کبھی امیر نہیں

ہونگے۔6. اگرآپ خطرات مول نہیں لیتے، غیر یقینی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں

تو آپ امیر نہیں

ہو سکتے۔7. اگر آپ کے پاس پیسے ہیں مگر ان کا کوئی مقصد نہیں



تو بھی آپ امیر نہیں ہو سکتے ۔8. اگر آپ پہلے خرچ کرتے ہیں

اور بچ جانے والی رقم ہی بچاتے ہیں تو بھی آپ امیر نہیں

،ہوسکتے ۔سب سے پہلے خود کو ادائیگی کریں

یعنی پہلے بچت کریں پھر سرمایہ کاری۔9. اگر آپ سمجھتے ہیں

کہ امیر ہونا صرف خوش قسمتی کی وجہ سے ہے

تو یہ سوچ بھی آپ کو غریب ہی رکھے گی

ایسی بہت سی باتیں یا عادتیں ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر وہ کسی شخص میں پائی جائیں تو وہ زندگی میں کبھی امیر نہیں ہوسکتا ۔ ...



بوڑھے شخص نے اپنی تدفین سے کچھ دیر قبل ہی آنکھیں کھول کر اپنے رشتے داروں سے پوچھا کہ یہ سب کیاہورہاہے؟ 75 سالہ شخص کی سانس رک گئی تھی اور اس کےہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے تھے،

جس پر اس کے بیٹے ، ہوانگ منگ کوان ، نے سمجھا کہ وہ مرگیاہے۔



تدفین سے پہلے اس کا بیٹا اور درجنوں رشتے دار وہاںموجود تھے۔

دفنانے کے آخری گھنٹے میں اچانک بیٹے نے تابوت میں باپ کا چہرہ دیکھنے کیلئے اس کا ڈھکن اٹھایا تو پتہ لگا کہ اس کا باپ تو زندہ تھا ۔اس کے باپ نے منہ باہر نکالا اور پوچھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟

کیا تم میرے جنازے کی تیاری کر رہے ہو؟



تو سب حیران رہ گئے۔بوڑھے کے زندہ ہونے کےبعد اس کے بیٹے اور رشتے داروں نے بھاگ کر اسے باہر نکالا اور بیڈ پر لٹادیا لیکن کمزوری کے باوجود بوڑھا اب بھی صرف دلیہ ہی کھا رہا ہے۔

یہ واقعہ جنوب مغربی چین کے صوبے سیچوان کی جونلیان کاؤنٹی میں پیش آیا۔

بوڑھے شخص نے اپنی تدفین سے کچھ دیر قبل ہی آنکھیں کھول کر اپنے رشتے داروں سے پوچھا کہ یہ سب کیاہورہاہے؟ 75 سالہ شخص کی سانس رک گئی تھی ا...



،پاکستان کا ایک ایسا گاؤں جہاں سات سال سے سگریٹ نوشی پر پابندی ہے

،تفصیلات کے مطابق ضلع فیصل آباد میں واقع ماموں کانجن کا ایک نواحی گاؤں 493 گ ب میں گزشتہ سات سال سے چرس

افیون، ہیروئن تو دور کی بات ہے

،کسی دکان پر سگریٹ تک فروخت نہیں ہوتے

تمام گاؤں والے امام مسجد کی بات مانتے ہیں

،اور انہی کے کہنے پر یہاں سگریٹ نوشی پر پابندی ہے

،گاؤں کے تمام بوڑھے لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں حقہ پینے کی اجازت دی گئی ہے

،امام مسجد مولانا محمد امین کے کہنے پر کسی کو شادی بیاہ یا دیگر خوشی کے مواقع پر ڈھول



گانے بجانے اور آتش بازی کی بھی اجازت نہیں ہے، گاؤں والے جب اپنے بچوں کی شادی کسی دوسرے شہر کرتے ہیں

تو پہلے ان کو مذکورہ رسوم نہ کرنے کا بتا دیتے ہیں، گاؤں میں ٹی ایم اے کے خاکروب نہیں ہیں

اور گاؤں کے نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہلال ویلفیئر سوسائٹی کے نام سے تنظیم بنا رکھی ہے

،جو تمام سماجی و فلاحی کام بہت اچھے طریقے سے انجام دے رہی ہے

،لڑائی جھگڑے کے تمام معاملات گاؤں کی مسجد میں بیٹھ کر حل کیے جاتے ہیں

،یہ گاؤں صفائی کے حوالے سے فیصل آباد کا مثالی گاؤں اور صفائی پر انعام بھی حاصل کر چکا ہے
دس ہزارسے زائد کی آبادی کے گاؤں میں صرف ایک مرکزی مسجد ہے

،جہاں پر تمام لوگ نماز جمعہ اور عیدین کی نمازیں پڑھتے ہیں

،باقی نمازیں گاؤں کی دوسری مساجد میں جو گاؤں والوں کے نزدیک ترین ہوتی ہیں وہاں پڑھتے ہیں

،لیکن ایک اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں اذان صرف مرکزی مسجد میں دی جاتی ہے



،اور یہ اذان تمام مساجد کے لاؤڈ سپیکر سے سنائی دیتی ہے
،اس گاؤں کے لوگ امام مسجد کی باتوں پر عمل کرتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ یہاں پر سگریٹ نوشی پر پابندی ہے۔

،پاکستان کا ایک ایسا گاؤں جہاں سات سال سے سگریٹ نوشی پر پابندی ہے ،تفصیلات کے مطابق ضلع فیصل آباد میں واقع ماموں کانجن کا ایک نواحی گا...



ان دنوں میں لاہور میں نیا نیاآیا تھا اور ایک نجی ہوسٹل میں رہتا تھا۔ہوسٹل میانی صاحب سے ایک کلومیٹر فاصلہ پر تھا ۔

میری عادت تھی کہ جمعرات کو قبرستان جاتا اور اہل قبر کے لئے دعا کرتا تھا ۔ایک دن میں دعا کرکے میں واپس پلٹ رہا تھا کہ اچانک ایک نوجوان میرے سامنے آگیا ۔

وہ معمولی سی جسامت کا مالک تھا،ہڈیاں اندر کو دھنسی ہوئیں ،کھالبھی جسم سے چمٹی ہوئی تھی۔لگتا تھا برسوں سے بھوکا ہے یا بیمار ہے ۔

لیکن اس کے ہاتھ میں کدال دیکھ کر سمجھ آگئی کہ یہ گورکن ہے۔ ’’ آپ جس قبر پر دعا کررہے تھے ادھر کوئی نہیں ہے ‘‘ اس نے مہین سی آواز میں ایسا انکشاف کیا کہ میں غور سے اسکو دیکھنے پر مجبور ہوگیا ۔

’’تمہیں کیسے پتہ؟‘‘ میں نے الجھی نظروں سے سوال کیا۔ اس نے کاندھے اچکائے اور چلا گیا ۔اس دوران چند لوگ ادھر نکل آئے۔انہوں نے اسے آواز دی۔’’

اوئے رمضانی بات سنتاجا‘‘ وہ اسکے پاس گئے تو میں بھی ان کے قریب چلا گیا ۔ ’’

کوئی جگہ بتا ،داداجی کی قبر کھودنی ہے‘‘ ان میں سے ایک نے سو سو کے چند نوٹ نکال کر اسے دئے۔اس نے جیب میں ڈالے اور انہیں اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔نہ جانے میں بھی ان کے پیچھے پیچھے کیوں چل دیا ۔

ایک ڈھلوان نما نشیب کے پاس چند قبروں کے پاس کھڑے ہوکر وہ قبروں کو سونگھنے کے انداز میں دیکھتا رہا ۔پھر اشارہ کیا ’’ یہ قبر خالی ہے ‘‘ ’’اچھا تو پھر قبر بھی بنادے،جنازہ عشاء کے بعد لانا ہے

‘‘ ایک موٹے سے بندے نے کہا۔میں بڑا حیران ہوا کہ کہ اسے کیسے معلوم کون سی قبر خالی ہے اور کس میں مردہ ہوگا ۔

ذہن میں آیا کہ لازمی ان لوگوں نے جعلی قبریں بنا رکھی ہیں اور پیسے لیکر قبریں دیتے ہیں ۔

یہ بھی تو ایک دھندہ ہی تھا ۔



لیکن میرا خیال اس وقت ریزہ ریزہ ہوگیا جب میں نے بڑے اور بوڑھے گورکن سے یہ سوال کیا’’ تم لوگ قبریں بھی بیچتے ہو‘‘ اس نے چونک میری جانب دیکھا اور پوچھا ’’ کیا ہوا صاب‘‘میں نے رمضانی کے بارے اسے بتایاتو اسکے چہرے پر کرب ناک سی تاریکی چھا گئی۔

پہلے اس نے کچھ بتانے میں تامّل برتا۔چند لمحوں بعد بولا’’ وہ قبر کا بیٹا ہے،مٹی تو بتائے گی ناں اسے کہ اسکی ماں کی گود میں کون سویا ہوا ہے ‘‘ یہ سن کر مجھے اسکی دماغی صحت پر شک ہوا ’’ میں سمجھا نہیں ‘‘ ’’ تو سمجھے گا کیسے ،یہ بات تو کوئی بھی نہیں

سمجھ پایا ،یہ جانتا ہوں تو صرف میں۔پینتیس سال پہلے اسی قبرستان کا واقعہ ہے ۔

اس وقت میری عمر چالیس سال تھی۔رمضان کا مہینہ تھا ۔یہ تاریک رات تھی،بارش ہورہی تھی اور بجلیاں کڑک رہی تھیں ۔

میں اس ڈھیری کی جانب سے ‘‘ اس نے بائیں طرف انگلی کا اشارہ کیا ’’ اپنی کٹیا میں جارہا تھا کہ مجھے ایک بچے کے رونے کی آواز آئی ۔

میں رک گیا اور آواز کا پیچھا کرتا ہوا اس جگہ پہنچا تو دیکھا یہ آواز ایک تازہ قبر سے آرہی تھی جس کو بارش نےاب کافی ننگا کردیا تھا ۔قبر تقریباً بیٹھ رہی تھی ،بچے کی آواز اسی قبر سے آرہی تھی۔میں نےہمت کی اور قبر کھود کر جب نیچے کی طرف دیکھا تو اس لمحہ بجلی زور سے کڑکی ۔

اسکی روشنی قبر میں سفید کفن میں ایک عورت آڑھی ترچھی ہوئی پڑی تھی ،کفن بارش کے پانی اور مٹی سے میلا ہورہا تھا ،اس کے اندر ہلچل ہورہی تھی اور بچے کی آواز آرہی تھی۔



یہ منظر دیکھ کر میں بہت گھبرایا،سمجھا کہ یہ کوئی جن بھوت کا کام ہے ۔

اللہ نے مجھے ہمت دی اور میں نے نیچے اتر کر کفن ہٹایا تو نیچے ایک بچہ پڑا تھا جو لگتا تھا ایک دن پہلے پیدا ہواتھا ۔

یہ بچہ اسی عورت کا تھا ،اور لگتا تھا وہ ایک دو دن پہلے مر چکی تھی ۔میں نے بچہ اٹھایااور اپنیکٹیا میں اسے لے آیا ۔اپنی بیوی کو دیا اور اسے سارا واقعہ بتایا ۔اللہ والی کو اس بچے پر بڑا پیار آیا اور اسے ہم نے پالا ۔

اسکا نام محمد رمضان رکھا ۔سارے لوگ اسے رمضانی کہتے ہیں ۔


ایک اور بات ۔۔میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح پتہ کروں کہ اس قبر والی عورت کے وارث کون تھے لیکن جب ناکام رہا تو رمضانی کو ہم نے ماں باپ بن کر پالا ۔

یہ ابھی بچہ ہی تھا مگر اسے قبر وں سے بڑا پیار ہوگیا،یہ قبروں سے لپٹ کر سوتا ہے۔اللہ نے اسکے اندر کوئی ایسی قوت رکھی ہے

کہ یہ قبر سونگھ کر بتا دیتا ہے کہ اس میں جو مردہ ہے وہ عورت کا ہے

یا مرد کا،بچے کا ہے یا بڑے کا۔کتنا پرانا ہے‘‘ آج جب یہ واقعہ بیان کررہا ہوں تو میری برسوں پرانی حیرتوں کا سفر تمام ہوگیا ہے ،کیونکہ آج ہی میں نے افریقہ کی ایک خبر پڑھی ہے جس میں اس واقعہ سے ملتا جلتا واقعہ بیان کیا گیا ہے ۔

نہ جانے افریقہ میں قبر میں جنم لینے والے بچے میں رمضانی جیسی قوت موجود ہے یا نہیں

ان دنوں میں لاہور میں نیا نیاآیا تھا اور ایک نجی ہوسٹل میں رہتا تھا۔ہوسٹل میانی صاحب سے ایک کلومیٹر فاصلہ پر تھا ۔ میری عادت تھی کہ ج...



ماہر فلکیات کے مطابق 26دسمبر 2019 کی صبح 7.34منٹ پر سورج گرہین ہو گا۔



زرائع کے مطابق 26 دسمبر 2019 کو کی صبع 7.34 شروع ہو گاجس میں 8.40منٹ پر سب سے زیادہ سورج گرہین ہو گا اور 10.10منٹ پر سورج گرہین ختم ہوجائے گا۔



معلوم ہوا کہ یہ سورج گرہین 20سال بعد اتنا زیادہ ہوگا کہ سورج چاند کے پیچھے 80 فیصد تک چھپ جائے گا اور دن رات کا منظر پیش کر رہا

ماہر فلکیات کے مطابق 26دسمبر 2019 کی صبح 7.34منٹ پر سورج گرہین ہو گا۔ زرائع کے مطابق 26 دسمبر 2019 کو کی صبع 7.34 شروع ہو گاجس میں...



آپ کے پاؤں ڈاکٹر کے لیے ایک حیرت انگیز تشخیصی آلے کے طور پر کام کرتے ہیں کیونکہ وہ ان سے کئی بیماریوں کے خطرات کے بھانپ سکتا ہے-

درحقیقت انسان کے پاؤں کی حالت صحت کے مختلف مسائل کی جانب اشارہ کر رہی ہوتی ہے- پاؤں یہ حالت دراصل ان بیماریوں کی علامت ہوتی ہے-

ہم یہاں چند بیماریوں کی ایسی علامات کا ذکر کر رہے ہیں

جو آپ کے پاؤں سے ظاہر ہوتی ہیں-Dry, Flaking Skinاگر آپ کے پاؤں کی ایڑیاں خشک اور کھردری ہیں تو یہ تھارائیڈ کی خرابی کی جانب سے اشارہ کر کر کر کر کر رہی ہیں-

ہمارے تھارائیڈ گلینڈ ایسے ہارمون پیدا کرتے ہیں جو ہمارے بلڈ پریشر٬ ٹشو کی پیداوار اور اعصابی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں-

لیکن تھارائیڈ میں خرابی کا مطلب ہے ان تمام چیزوں میں خرابی پیدا ہونا- اگر آپ کے پاؤں کی جلد خشک ہے٬ اور اس کے ساتھ آپ کا وزن بڑھ رہا ہے٬ نظر کمزور ہورہی ہے اور ہاتھ سُن ہوجاتے ہیں تو آپ کو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے-Balding Toes مرد و خواتین کے پاؤں کی انگلیوں پر بالوں کا ہونا ایک عام سی بات ہے-

لیکن اگر آپ دیکھتے ہیں کہ یہ بال جڑ رہے ہیں یا پھر آپ کے پاؤں کی اںگلیاں مکمل گنجی ہوچکی ہیں
تو یہ اس بات کی علامت ہے آپ کے جسم میں خون کی گردش صحیح نہیں ہورہی- دورانِ خون میں مسئلے کی ایک وجہ شریانوں میں خرابی بھی ہوسکتی ہے
جو آپ کے پاؤں تک پہنچنے والے خون کو متاثر کر رہی ہے-

یہ خرابی ہارٹ اٹیک یا فالج کا سبب بھی بن سکتی ہے- ایسی علامت محسوس ہوتی ہے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے اور اس کے علاوہ تمباکو نوشی کو ترک کردی٬ غذا متوازن کر دیں اور ورزش کو معمول بنا لیں-Foot Numbness اگر آپ کے پاؤں سُن ہوجاتے ہیں

تو یہ بھی اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ پاؤں کی طرف خون کی گردش میں کوئی خرابی پیدا ہوچکی ہے-

ممکن ہے اگر آپ ایک ہی پوزیشن میں کافی وقت تک بیٹھے رہتے ہیں یا غلط انداز میں سو جاتے ہیں

تو اس وجہ سے بھی آپ کا پاؤں سُن ہوجائے- لیکن اگر یہ مسئلہ اکثر رہتا ہے تو پھر آپ کو اسے نظر انداز نہیں



کرنا چاہیے- پاؤں کا سُن ہونا ذیابیطیس ٹائپ 2 کا مرض لاحق ہونے کی علامت بھی ہوسکتی ہے- ذیابیطیس کے مریضوں میں پاؤں کی جانب ہونے والی خون کی گردش میں پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں

اور اسی وجہ سے ان کے زخم بھی آسانی سے ٹھیک نہیں ہوتے-

روزانہ کی ورزش اور صحت بخش غذا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں-Black Spots or Lines Under Your Toenails عام طور پر اگر آپ کے پاؤں کی انگلیوں یا اس کے ناخن والے حصے پر کوئی بھاری چیز گر جائے تو اس کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے-

لیکن اگر آپ کے پاؤں کے انگوٹھے کے ناخن پر کالی یا بھوری لکیریں موجود ہیں

جبکہ آپ کو اچھی طرح یاد ہے کہ آپ کا پاؤں زخمی بھی نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اس کے ناخنوں پر کوئی چوٹ پہنچی تھی تو پھر آپ کو ڈاکٹر سے فوراً رابطہ کرنا چاہیے-

یہ لکیریں melanoma نامی بیماری کی علامت بھی ہوسکتی ہیں-

یہ ایک جلد کا کینسر ہوتا ہے اور اسے ہرگز نظر انداز مت کیجیے-Morning Foot Painاگر مریض یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں  کہ صبح سویرے ان کے پاؤں میں شدید درد ہوتا ہے- جب وہ بستر سے نیچے چند قدم رکھتے ہیں تو ان کے پاؤں میں درد شروع ہوجاتا ہے- یہ rheumatoid arthritis (RA) کی علامت بھی ہوسکتی ہے جسے عام زبان میں جوڑوں کا درد کہا جاتا ہے- جوڑوں کا درد جوڑوں میں سوزش پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے- اس سلسلے میں اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کے علاوہ روزانہ ورزش کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ آپ کے جسم کے تمام جوڑ مضبوط اور صحت مند ہوں-

آپ کے پاؤں ڈاکٹر کے لیے ایک حیرت انگیز تشخیصی آلے کے طور پر کام کرتے ہیں کیونکہ وہ ان سے کئی بیماریوں کے خطرات کے بھانپ سکتا ہے- درحق...




دنیا میں ہر شریف آدمی بیوی سے ڈرتا ہے‘ ان میں سے کچھ لوگ اس خوف کا اعتراف کر لیتے ہیں

جبکہ کچھ لوگ خود کو دوسروں کے سامنے بہادر ثابت کرتے ہیں۔

اپنی جرات اور بے باکی کے دعوے کرتے ہیں لیکن جونہی گھر میں داخل ہوتے ہیں

تو ان کی حالت بھی دوسروں جیسی ہی ہوتی ہے‘ یہ بھی اسی طرح عاجزی‘ انکساری اور برد باری کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔  امریکا میں ایک بار بہادر ترین شخص کامقابلہ ہوا۔

مقابلہ جیتنے والے کیلئے گھوڑا‘انعام میں رکھا گیا تھا۔
یہ مقابلہ میکسیکو کے ایک کسان نے جیت لیا۔ اس کسان کے سامنے بھوکا شیر لایا گیا تھا‘ وہ شیر سے نہیں ڈرا‘ اسے لٹا کر اس کے اوپر سے ہاتھی گزارا گیا۔

ہاتھی کا پاﺅں اس کے جسم سے آدھ انچ کے فاصلے سے گزرالیکن وہ نہیں ڈرا‘ اسے رسے سے باندھ کر پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرایا گیا لیکن وہ نہیں ڈرا‘ اس کے پاﺅں باندھ کر اسے دریا میں پھینک دیا گیا لیکن وہ نہیں



ڈرا اور آخر میں رات کے اندھیرے میں اسے ریل کی پٹڑی پر باندھ دیا گیا۔ پوری ٹرین اس کے اوپر سے گزر گئی۔
وہ موت کو ایک انچ کے فاصلے سے گزرتا ہوا دیکھتا رہا لیکن وہ نہیں ڈرا چنانچہ وہ یہ مقابلہ جیت گیا۔ اسے دنیا کے بہادر ترین انسان کا خطاب دے دیا گیا۔

مقابلہ جیتے کے بعد اس کے سامنے دو گھوڑے لائے گئے‘ ایک کا رنگ سیاہ تھا اور دوسرا سفید تھا۔ اسے دونوں میں سے ایک گھوڑا پسند کرنے کی چوائس دی گئی‘ اس نے سفید گھوڑا پسند کیا۔

گھوڑے پر بیٹھا اور چلا گیا۔ اگلے دن وہ واپس آیا‘ سفید گھوڑا منتظمین کو واپس کیا اوران سے درخواست کی‘ آپ مجھے سیاہ گھوڑا دے دیں۔

منتظمین نے حیرت سے پوچھا ”کیوں؟

“ دنیا کے بہادر ترین شخص نے جواب دیا ”میں سفید گھوڑا لے کر گھر پہنچا تو میری بیوی نے کہا ”کیا تم سیاہ گھوڑا نہیں

لے سکتے تھے‘ تم میں اتنی بھی عقل نہیں‘ جاﺅ یہ واپس کرو اور سیاہ گھوڑا لے کر آﺅ“ دنیا کے بہادر ترین شخص کا کہنا تھا ”آپ مہربانی کر کے مجھے گھوڑا تبدیل کر دیں ورنہ میری بیوی مجھے زندہ نہیں چھوڑے گی“۔

مرد بیویوں سے اتنے ڈرتے کیوں ہیں؟

شائد ان لئے کہ بیویاں اسٹیبشلمنٹ ہوتی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر سکون کے ساتھ حکومت کرنا آسان نہیں ہوتا

۔

دنیا میں ہر شریف آدمی بیوی سے ڈرتا ہے‘ ان میں سے کچھ لوگ اس خوف کا اعتراف کر لیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ خود کو دوسروں کے سامنے بہادر ثابت ...



عام طورپرسب جانتے ہیں کہ دنیامیں ایسے جانوربھی ہیں

جوکہ انسان کودیکھتے ہیں اس پرحملہ کردیتے ہیں اورلمحوں میںہی انسان کوچبائے بغیرنگل لیتے ہیں
لیکن انڈونیشیاکے ایک گائوں میں اسی طرح کاایک خوفناک واقعہ پیش آیاہے

کہ ایک دیوہیکل سانپ (Gaint Python)نے ایک شہری کونگل لیا۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اکبرسالابیرواپنے دوستوں کے ہمراہ پام آئل کے کھیتوں میں کام کرنے کےلئے گیااور پام آئل کے پتے کاٹتے ہوئے اس کوایک دیوہیل سانپ نے خاموشی سے نگل لیاجس پراس کے دیگرساتھیوں نے اکبرکی تلاش شروع کردی کہ ساتھ ہی ان کوکسی انسان کے چیخنے چلانے کی آوازیں بھی آئیں توانہوں نے دیکھاکہ ساتھ ہی باغ میں ایک دیوہیکل سانپ گھوم رہاہے اوراس کاپیٹ بڑھاہواہے جس سے ان کوشک پڑاکہ کہیں اس سانپ نے ہی توان کے ساتھی کونگل تونہیں لیا؟



یہ شک ہوتے ہی وہاں پرموجود افراد نے مقامی دیہاتیوں سے ایک شکاری چاقو لیا جوکہ تین فٹ کاتھااوراس دیوہیکل سانپ کوپکڑاکراس کے پیٹ کوچیراتووہاں پرموجود سب افرادحیران رہ گئے تھے کہ اس سانپ کے پیٹ سے ان کے ساتھی کی لاش ملی جوکہ مرچکاتھالیکن اس کوسانپ نے کچلنے اورچبانے کے بجائے نگل لیاتھا۔


سانپ نے صرف اکبرکے گلے کوپکڑاتھااوربعدمیں نگل لیاجس کی وجہ سے اکبر کے جسم پرصرف اس کے گلے پرہی سانپ کے دانتوں کے نشانات پائے گئے جبکہ باقی جسم پرصرف اس سانپ کے پیٹ کے اندرموجود خون کے دھبے ہی موجود تھے ۔

اس لرزہ خیزواقعہ کے بعد علاقے میں خوف پھیل گیاکہ کس طر ح خاموشی سے ایک دیوہیل سانپ نے چلتے پھرتے شخص کواتنی خاموشی اورآسانی سے اپناشکاربنالیا۔واضح رہے

کہ انڈونیشیاکے جنگلات ا ور دیگرعلاقوں میں ایسے سانپوں کی بہتات ہے جو جسامت میں انسانوں سے بھی کئی گنابڑے ہیں

اوران کی جسامت مگرمچھوں کے برابرتک ہوتی ہے

اوران کی شکلیں بھی عام سانپوں کے بجائے الگ قسم کی ہوتی ہیں

جبکہ بعض افراد ان سانپوں کاشکارکرکے ان کے جسم سے حاصل ہونے والے قیمتی چمڑے کوفروخت کرکے بھاری معاوضے بھی کماتے ہیں ۔

عام طورپرسب جانتے ہیں کہ دنیامیں ایسے جانوربھی ہیں جوکہ انسان کودیکھتے ہیں اس پرحملہ کردیتے ہیں اورلمحوں میںہی انسان کوچبائے بغیرن...


شادی کسی بھی انسان کی زندگی کا سب سے اہم اور سب سے حسین موقع ہوتا ہے . لوگ اس دن کیلئے سالوں پہلے سے ہی تیاری شروع کر دیتے ہیں. اور شادی میں سب سے اہم شادی کی پہلی رات یا سہاگ رات ہوتی ہے.آپ نے بہت سے شادیاں دیکھی ہوں گی لیکن ایک چیز جو ہر شادی اور ہر سہاگ رات میں ہوتی ہے وہ ہوتا ہے دودھ کا گلاس ہم آپکو بتاتے ہیں کہ  سہاگ رات کودولہا دلہن دودھ کیوں پیتے ہیں اور اسکا کیا فائدہ ہے. دودھ کا گلاس ہماری روایت کا حصہ بن چکا ہے اور یہ پاکستان اور ہندوستان میں ہزاروں سال سے چلتی آ رہی ہے. دودھ پینے سے جسم میں طاقت آ جاتی ہے اور آپ میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہے گاکہ وہ زندگی کی سب سے حسین رات کمزوری محسوس کرے. دودھ آپ کو ایکٹو بناتا ہے. کیوں کہ موبائل وغیرہ کے دور سے پہلے سہاگ رات کو ہی میاں بیوی پہلی دفعہ ملتے تھے اور انہوں نے ایک دوسرے کو جاننے کیلئے ساری رات بات چیت کرنی ہوتی تھی.  اس کے علاوہ دودھ سے جسم کی تھکاوٹ بھی ختم ہو جاتی ہے. کیوں کہ شادی کے دن تھکاوٹ ہو جاتی تو دودھ اس تھکاوٹ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے.دودھ پینے سے آپکا موڈ بھی خوش گوار ہو جاتا جو ان حسین لمحات کو اور بھی حسین بنانے کیلئے ضروری ہے.دودھ پینے سے نیند بھی اچھی آتی ہے. دودھ پینے سے جسم میں طاقت آ جاتی ہے اور آپ میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ وہ زندگی کی سب سے حسین رات کمزوری محسوس کرے. دودھ آپ کو ایکٹو بناتا ہے. کیوں کہ موبائل وغیرہ کے دور سے پہلے سہاگ رات کو ہی میاں بیوی پہلی دفعہ ملتے تھے
facebook.com/pg/publishpicture

شادی کسی بھی انسان کی زندگی کا سب سے اہم اور سب سے حسین موقع ہوتا ہے . لوگ اس دن کیلئے سالوں پہلے سے ہی تیاری شروع کر دیتے ہیں. اور شادی ...


ایک ہلکی داڑھی والاشخص حضرت عمر بن الخطابؓ اورحضرت علیؓ کے پاس بیٹھا تھا اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں اور زبان ذکر و تسبیح میں مشغول تھی۔ .حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا کہ آپ نے صبح کس حال میں کی؟ اس آدمی نے عجیب انداز سے جواب دیاکہ میں نے اس حال میں صبح کی کہ فتنہ کو پسند کرتا ہوں اور حق بات سے کراہت کرتا ہوں۔.اور بغیر وضو کے نماز پڑھتا ہوں اور میرے لیے زمین پر وہ چیز ہے جو آسمان پر اللہ کے لیے نہیں ہے! (یہ سن کر) حضرت عمرؓ طیش میں آ گئے اور اللہ کے دین کی خاطر انتقام لینے پر آمادہ ہو گئے اور اس آدمی کو پکڑ کر سخت سزا دینے لگے تو حضرت علیؓ نے ہنستے ہوئے کہا: اے امیر المومنین! یہ شخص جو یہ کہتاہے کہ وہ فتنہ کو پسند کرتاہے اس سے اس کی مراد مال و اولاد ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مال و اولاد کو فتنہ کہا گیا ہے: ’’اِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃ’‘‘‘ (الانفال:28) اور حق کو ناپسند کرتا ہے اس سے مراد موت کی ناپسندیدگی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وَجَآئتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ‘‘ (ق:19) اور بغیر وضو کے نماز پڑھتاہے اس سے مراد نبی کریمؐ پر صلوٰۃ (درود) بھیجنا ہے، ظاہر ہے کہ صلوٰۃ کے لیے وضو ضروری نہیں ہے۔ اور اس نے جو یہ کہا ہے کہ اس کے لیے زمین پر وہ چیز ہے جو آسمان پر اللہ کے لیے نہیں ہے اس سے اس کی مراد بیوی بچے ہیں، ظاہر ہے کہ اللہ کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد، وہ ذات تو یکتا بے نیاز ہے،.نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ حضرت عمر بن الخطابؓ کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا اورہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور خوشی سے جھومتے ہوئے فرمایا: وہ جگہ ہی کیا ہے جہاں ابوالحسنؓ نہ ہو یعنی علی بن ابی طالبؓ۔‘‘
facebook.com/pg/publishpicture

ایک ہلکی داڑھی والاشخص حضرت عمر بن الخطابؓ اورحضرت علیؓ کے پاس بیٹھا تھا اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں اور زبان ذکر و تسبیح میں م...